Urdu book · سفرنامہ اسپین و فلسطین

سفرنامہ اسپین

Urdu book, p. 96

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلامی تہذیب و روایات اور عربوں کی محبت سے سرشار تھا (لقد أشرب كوديراجحب العرب) کہا جاتا ہے کہ اس کا تعلق ایسے خاندان سے تھا جو اصلاً عرب تھا۔ جیسا کہ اسپین کے اکثر گھرانوں کا حال ہے۔ عربی زبان سے اس کو اتنا شغف تھا کہ وہ اپنے نام کا تلفظ عربی لہجہ میں اس طرح کرتا تھا: الشیخ فرنسیشکو قد ارۃ زِیدِین۔ امیر شکیب ارسلان اس کو کوڈیرا کے بجائے قدیَرۃ کہتے تھے۔ کوڈیرا نے اپنی عمر کا بڑا حصہ میڈ رڈ یونیورسٹی میں پروفیسر کی حیثیت سے گزارا۔ وہ نہایت ذی علم، اعلیٰ ادبی ذوق اور انصاف پسند طبیعت کا مالک تھا۔ اس نے اپنے زیر تربیت نوجوانوں میں اسپین کی مسلم تاریخ کے مطالعہ کا شوق پیدا کیا۔ خود اس نے اس موضوع پر درجنوں ضخیم کتابیں اسپینی اور انگریزی زبانوں میں لکھی اور اپنے بعض طلبہ کے تعاون سے بہت سے قیمتی عربی مخطوطات کی تحقیق کر کے ان کو جدید معیار کے مطابق (Bibliofico Arabico Hispana) کے نام سے شائع کیا ہے۔ اس کی ذہنی وسعت اور انصاف پسندی کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک بار اس نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ یہ غلط ہوگا کہ اسپین کو یورپی بنانے کی کوشش کی جائے، ضرورت اس بات کی ہے کہ یورپ کو عربی بنایا جائے (إن من الخطأ العمل على "أوربة" إسبانيا، بل الواجب هو "تعريب" أوروبا)۔ کوڈیرا کے زیر اثر اسپین میں اسکالروں کا ایک بڑا گروہ تیار ہوا۔ عربوں اور مسلمانوں کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر حد درجہ انصاف پسندی اور قدردانی پر مبنی ہے۔ یہ لوگ اپنے استاد کی طرف منسوب کرتے ہوئے اپنے آپ کو بنی کوڈیرا‘‘ کہتے ہیں۔ جس سے عربی زبان کے ساتھ ان کے شغف کا اندازہ ہوتا ہے۔ میڈ رڈ کے شمال مغرب میں ایک شہر ال اسکور یال (El Escorial) ہے۔ یہاں سولہویں صدی کا ایک پرانا چرچ اور ایک تاریخی محل ہے۔ تاہم اس کی عالمی شہرت کا بڑا سبب اس کی وہ عظیم شاہی لائبریری (مكتبة الإسكوريال الملكية) ہے، جس کا شمار دنیا کے قدیم اور مالدار ترین کتب خانوں میں ہوتا ہے۔ اس لائبریری میں نادر عربی مخطوطات کا بھی ایک بڑا ذخیرہ ہے۔ حتی کہ یہاں پر بعض ایسے عربی مخطوطات محفوظ ہیں جو دنیا کے کسی بھی اسلامی یا غیر اسلامی کتب خانے میں موجود

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page