سفرنامہ اسپین
Urdu book, p. 98
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کتاب کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام ساری دنیا کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے۔ کیونکہ وہ دوسرے مذہب اور کلچر کے ساتھ پر امن طور پر نہیں رہ سکتا۔ اس لیے اسلام کے مسئلہ کا حل صرف ایک ہے، یعنی اسلام کا مکمل خاتمہ۔ اس معاملہ میں ساری دنیا کو اسپین کے نمونہ کو اختیار کرنا ہے۔ اسپین نے اسلام اور مسلمانوں کو مکمل طور پر اپنے یہاں سے خارج کر دیا۔ اسی طرح ہندوستان اور دوسرے ملکوں کو چاہیے کہ وہ ان کو اپنے یہاں سے خارج کر دیں۔ اس کے سوا اس مسئلہ کا کوئی حل نہیں۔ یہ بات اس مفروضہ پر کہی گئی ہے کہ اسپین سے مسلمانوں کو ہمیشہ کے لیے خارج کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ یہ بات واقعہ کے مطابق نہیں۔ پھر جو اسپین خود اسپین میں نہیں بنا وہ دوسرے کسی مقام پر کیسے بن جائے گا۔ مصنف نے بالواسطہ انداز میں اعتراف کیا ہے کہ 1925ء میں آرایس ایس کی تنظیم اسی خاص مقصد کے لیے بنائی گئی۔ مگر سوال یہ ہے کہ 70 سال کی لمبی مدت میں آرایس ایس نے کیا کیا۔ حقیقی صورت حال یہ ہے کہ 1925ء میں سارے برصغیر ہند میں مسلمانوں کی جو مجموعی تعداد تھی اس سے زیادہ تعداد مسلمانوں کی آج صرف منقسم انڈیا میں ہے۔ گویا آرایس ایس کی ساری کوششوں کے باوجود اسلام کا قافلہ برعکس سمت میں سفر کر رہا ہے۔ اب بیسویں صدی کے آخر میں جو لوگ اس قسم کی کتابیں چھاپ رہے ہیں وہ صرف نادانی کر رہے ہیں۔ کیوں کہ اب زمانہ مزید سفر کر کے ایک ایسے مقام پر پہنچ گیا ہے کہ انسان کو صرف دو قسم کی کتابیں پڑھنے سے دلچسپی ہے۔ کیریر بنانے والی کتابیں یا تفریحی کتابیں ۔ اور مذکورہ بالا کتاب یقینی طور پر ان دونوں میں سے کسی قسم میں نہیں آتی۔ یکم دسمبر کو یہاں سے واپسی کا دن تھا۔ صبح کو فجر کی نماز میڈ رڈ کے ہوٹل میں پڑھی۔ مسلم عہد میں میڈ رڈ کا علاقہ بھی مسلم سلطنت میں شامل تھا۔ میں نے سوچا اگرچہ ہوٹل کے اس کمرہ میں نہیں، مگر جہاں یہ ہوٹل کھڑا ہے، عین ممکن ہے کہ اس زمین پر اللہ کے کسی بندہ نے سجدہ کیا ہو۔ عین ممکن ہے کہ یہاں کی فضا میں کسی مومن کی آہوں اور آنسوؤں کی امین ہوں۔ مسلم دور حکومت میں میڈ رڈ کا نام مجریت (Majrit) تھا۔ یہی لفظ بدل کر اب میڈ رڈ بن گیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader