Urdu book · صومِ رمضان

صومِ رمضان

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنے کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ لوگوں کے اندر انسانی ہمدردی کے احساس کو جگاتا ہے۔ روزہ گویا کہ اُس محتاجی کی حالت کو اختیاری طور پر اپنے اوپر طاری کرنا ہے جو دوسروں کے ساتھ مجبورانَہ طور پر پیش آتی ہے۔ اس طرح، روزہ یہ کرتا ہے کہ وہ ایک اخلاقی ذمّے داری کو روزے دار کے لیے اُس کا ایک ذاتی تجربہ بنا دیتا ہے۔ اس ذاتی تجربے کی بنا پر وہ زیادہ گہرائی کے ساتھ انسانی ہمدردی کے معاملے کو سمجھتا ہے اور اُس پر عمل کرنے کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے۔ روزہ ایک طرف ، انسان کے اندر اللہ سے تعلق کو بڑھاتا ہے، اور دوسری طرف، وہ روزے دار کے اندر انسانی خدمت کا جذبہ مزید اضافے کے ساتھ پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ رمضان کے مہینے کے بعد انسان زیادہ بہتر طور پر خدا کا عبادت گزار بن جاتا ہے اور اِسی کے ساتھ وہ زیادہ بہتر طور پر انسان کا خدمت گزار بھی۔ روزہ ایک اعتبار سے، عبادتِ خداوندی کا تجربہ ہے اور دوسرے اعتبار سے ، خدمتِ انسانی کی تربیت کا ذریعہ۔ روزہ اور دعا قرآن کی سورہ نمبر 2 میں اللہ تعالیٰ نے دعا کے متعلق ارشاد فرمایا ہے: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَإِنِّى قَرِيبٌ ، أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِى لعلهم يرشدون (البقرة: (186)۔ یعنی جب میرے بندے تم سے میرے متعلق پوچھیں، تو میں نزدیک ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں، جب کہ وہ مجھے پکارتا ہے۔ تو چاہیے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر یقین رکھیں، تاکہ وہ ہدایت پائیں۔ دعا کسی قسم کے متعین الفاظ کو دہرانے کا نام نہیں، دعا دراصل دل کی پکار کا نام ہے۔ جب کسی انسان کے دل میں اعلیٰ ربانی جذبات پیدا ہوں اور وہ دل کی گہرائیوں کے ساتھ اللہ کو پکارنے لگے، تو یہی وہ چیز ہے جس کو اسلام میں دعا کہا گیا ہے۔ اِس قسم کی دعا اُس انسان کے اندر سے نکلتی ہے جو دل شکستگی کے تجربے سے دوچار ہو۔ اور روزے کی مشقت آدمی کو اسی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page