Urdu book · صومِ رمضان

صومِ رمضان

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

دل شکستگی کا تجربہ کراتی ہے۔ اس طرح، آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ مطلوب نوعیت کی سچی دعا کر سکے ۔ حقیقی دعا وہ ہے جس میں عجز کا تجربہ شامل ہو جائے۔ خدا، انسان کے بالکل قریب ہے۔ وہ ہر لمحہ انسان کے قریب رہتا ہے، لیکن اس قربتِ الہی کا تجربہ صرف اُس انسان کو ہوتا ہے جو عاجزانہ روح کے ساتھ اللہ کو پکارے۔ حقیقی روزہ آدمی کو اسی عجز اور عبدیت کا تجربہ کراتا ہے۔ اس طرح، سچا روزہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ خدا کی قربت کا تجربہ کرے، حقیقی معنوں میں خدا سے دعا کرنے والا بن جائے۔ سچی دعا وہ ہے جس کے ساتھ سچا عمل شامل ہو۔ سچے عمل سے مراد مطابق دعا عمل ہے۔ سچی دعا اور سچے عمل کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ جس آدمی کو خدا کی سچی قربت ملے، وہ یقیناً ایک باعمل انسان بن جائے گا۔ اور باعمل انسان ہی وہ انسان ہے جس کی دعا اللہ تک پہنچتی ہے اور قبولیت کا درجہ حاصل کرتی ہے۔ جس دعا کے ساتھ مطابق دعا عمل شامل نہ ہو، وہ دعا قابلِ رد ہے، نہ کہ قابلِ قبول۔ لامحدود اجر حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کُلُّ عمل ابن آدم یضاعف الحسنۃ بعشر أمثالها إلى سبع مأۃ ضعف، قال اللہ تعالیٰ: إلا الصوم، فإنه لى وأنا أجزی به، يَدَعُ شهوته وطعامه من أجلي (صحيح مسلم، كتاب الصيام، باب: فضل الصيام) یعنی انسان کے ہر عمل کا اجر، دس گنا سے لے کر سات سوگنا تک بڑھایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: سوائے روزہ کے، کیوں کہ وہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کا اجر دوں گا۔ بندہ اپنی خواہش کو اور اپنے کھانے کو میرے لیے چھوڑتا ہے۔ انسان جب کوئی صالح عمل کرتا ہے، تو اللہ کی رحمت کا تقاضا ہوتا ہے کہ اُس کے عمل کا اجر اس کو زیادہ بڑھا کر دیا جائے۔ عام حالات میں آدمی کے اجر میں یہ اضافہ دس گناہ سے سات سو گنا تک ہوتا ہے، لیکن روزہ ایک ایسا عمل ہے جس کا اجر ایک سچے روزے دار کو بے حساب گنا اضافے کے ساتھ دیا جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page