صومِ رمضان
Urdu book, p. 13
By Maulana Wahiduddin Khan
صالح عمل کی دو قسمیں ہیں۔ ایک، وہ جو نارمل حالت میں کیا جائے۔ مثلاً معمول کے مطابق، پانچ وقت کی نماز ادا کرنا، یا سال پورا ہونے پر اپنے مال سے زکات نکالنا۔ ذی الحجہ کا مہینہ آنے پر حج کی عبادت کو انجام دینا، وغیرہ۔ یہ عبادتیں وہ ہیں جو معمول کے حالات میں ادا کی جاتی ہیں۔ ان پر بھی بلا شبہ اجر ملتا ہے، لیکن ان کا اجر، اضافے کے باوجود، ایک محدود اجر ہوتا ہے، نہ کہ لامودا اجر۔ عبادت کی دوسری قسم وہ ہے جو غیرمعمولی حالات میں ادا کی جاتی ہے۔ یہ وہ عبادت ہے جس میں انسان کو ایک قسم کے بھونچال سے دوچار ہونا پڑتا ہے، جس میں آدمی کو خود اپنے خلاف جہاد کرنا پڑتا ہے، جس میں آدمی کو اپنی خواہشوں (desires) سے لڑکر آگے بڑھنا پڑتا ہے، یہ وہ عبادت ہے جو قربانی (sacrifice) کی سطح پر ادا کی جاتی ہے۔ پہلی قسم کی عبادت اگر ہموار راستے کا سفر ہے، تو دوسری قسم کی عبادت پہاڑ کی چڑھائی کے ہم معنی۔ یہی وہ فرق ہے جس کی بنا پر دوسری قسم کی عبادت کا اجر پہلی قسم کی عبادت کے مقابلے میں، بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ ایک، معمول کی عبادت ہے اور دوسری، غیر معمولی حالات میں کی ہوئی عبادت۔ موافقِ اصلاحِ ماحول حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إذا كان أوّلُ ليلةٍ من شہر رمضان، صُفدتِ الشیاطينُ ومَرَدَةُ الجِنّ، وغُلّقت أبوابُ النار فلم يُفتح منها باب۔ وفتحت أبواب الجنة فلم يُغلَق منها باب۔ وينادى منادٍ: يا باغیَ الخيرِ أقبِلْ، ويا باغیَ الشرِّ أقصِرْ۔ وللهِ عُتقاء من النار، وذلك كلُّ ليلةٍ ( الترمذی، كتاب الصوم، باب: فضل شهر رمضان ) یعنی جب رمضان کے مہینے کی پہلی رات آتی ہے، تو شیاطین اور بھٹکانے والے سرکش جن قید کر دیے جاتے ہیں، اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اس کا کوئی دروازہ کھلا نہیں رہتا۔ جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اُس کا کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا۔ ایک پکارنے والا پکارتا ہے کہ — اے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader