صومِ رمضان
Urdu book, p. 14
By Maulana Wahiduddin Khan
خیر کے طالب، آگے بڑھ اور اے شر کے طالب، رک جا۔ اور اللہ لوگوں کو جہنم سے بڑی کرتا ہے، اور ایسا ہر رات کو ہوتا ہے۔ اس حدیث میں ایک مخصوص اسلوب میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ رمضان کا مہینہ اپنے اعمال کے اعتبار سے، روزے داروں کے لیے ایک موافق اصلاح ماحول پیدا کرتا ہے۔ جو لوگ اس ماحول سے حقیقی معنوں میں فائدہ اٹھائیں، وہ اللہ کی رحمت کے نتیجے میں جنت سے قریب ہو جائیں گے اور وہ جہنم سے دور ہو جائیں گے۔ ان کے اندر ایسی شخصیت کی تعمیر ہوگی جو اُن کے لیے رمضان کی برکتوں کے حصول کا ذریعہ بن جائے گی۔ رمضان میں زیادہ سے زیادہ، قرآن کا چرچا ہوتا ہے۔ رمضان میں، اللہ کے ذکر اور اللہ کی عبادت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ رمضان کے مہینے میں کم کھانا، کم سونا، مادی چیزوں میں کم سے کم مشغول ہونا، اس قسم کی چیزیں رمضان میں بڑے پیمانے پر دین کے موافق ماحول پیدا کردیتی ہیں۔ اس ماحول کا حقیقی فائدہ اُن لوگوں کے حصے میں آتا ہے جو اس موقع کو اپنی اصلاح کے لیے استعمال کریں۔ رمضان کا یہ فائدہ کسی کو اپنی استعداد کی بنیاد پر ملتا ہے، نہ کہ کسی مہینے کی پر اسرار فضیلت کی بنیاد پر۔ روزہ اور اخلاقی ڈسپلن حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إذا كان يوم صوم أحدكم فلا يرفث، ولا يَصْحَب، فإن سابّه أحد أوقاتله فليقل: إنّي امرئ صائم (البخاری، کتاب الصوم) یعنی جب تم میں سے کسی شخص کے روزے کا دن ہو تو وہ بے ہودہ گوئی نہ کرے اور نہ شور کرے۔ اگر کوئی شخص اس کو گالی دے، یا اُس سے لڑائی کرے تو وہ کہہ دے کہ میں ایک روزے دار آدمی ہوں۔ اس حدیث رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ روزہ صرف کھانا اور پینا چھوڑ دینے کا نام نہیں ہے، بلکہ روزے کا تقاضا یہ بھی ہے کہ آدمی بُرے اخلاق کو چھوڑ دے، وہ کسی معاملے میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader