Urdu book · صومِ رمضان

صومِ رمضان

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

شور و غل کا طریقہ اختیار نہ کرے۔ یہاں تک کہ اگر دوسرا شخص اُس کو اشتعال دلائے ، تب بھی وہ ایسا نہ کرے کہ وہ مشتعل ہو کر خود بھی وہی کرنے لگے جو دوسرا شخص اس کے خلاف کر رہا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ روزہ صرف ایک رسمی عمل کا نام نہیں ہے، بلکہ روزے کا مقصد آدمی کے اندر گہری اسپرٹ پیدا کرنا ہے، ایسی اسپرٹ جو اس کی سوچ کو بدل دے، جو اس کے مزاج میں تبدیلی پیدا کردے، جو اس کے کردار میں انقلاب برپا کردے۔ سچا روزے دار وہ ہے جس کا روزہ اس کی پوری شخصیت کو ربانی شخصیت بنا دے۔ سچا روزہ انسان کو آخری حد تک ایک سنجیدہ انسان بنا دیتا ہے۔ اس کی زندگی کے ہر پہلو میں سنجیدگی کا رنگ غالب آ جاتا ہے۔ اس کا یہ مزاج اتنا گہرا ہوتا ہے کہ دوسروں کا اشتعال انگیز رویہ بھی اس کو سنجیدگی کے راستے سے نہیں ہٹاتا۔ وہ سماج کا ایک پرسکون ممبر (peaceful member)ہوتا ہے، وہ سماج میں لوگوں کے لیے کسی طرح کا کوئی پرابلم کھڑا کرنے کا سبب نہیں بنتا۔ سچا روزے دار ایک متواضع (modest) انسان ہوتا ہے، نہ کہ سرکش انسان۔ سچا روزے دار اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ کھانے پینے کی چیزوں کو تو چھوڑے، لیکن وہ بُرے اخلاق کو نہ چھوڑے۔ وہ کھانے پینے کے معاملے میں اپنے معمول کو بدلے، لیکن وہ اپنی زندگی کی روش میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔ رمضان میں خطاٶں کی معافی حضرت ابوسعید الخدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ صَامَ رمضان وعرّف حدودہ، وتحفظ مما كان ينبغى له أن يتحفظ منه، كُفّر ما قبله (مسند احمد، جلد 3، صفحہ 55) یعنی جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے اور اُس کی حدود کو پہچانا، اور جن چیزوں سے بچنا ضروری تھا، اُس نے روزے میں اُن چیزوں سے اپنے آپ کو بچایا، تو ایسارو زہ اس کے لیے اس کی خطاٶں کی معافی کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ رمضان کا مہینہ دراصل محاسبہ (introspection) کا مہینہ ہے۔ سچا روزہ، آدمی کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page