صومِ رمضان
Urdu book, p. 16
By Maulana Wahiduddin Khan
اندر محاسبہ کی نفسیات کو جگاتا ہے۔ وہ اپنے ماضی اور اپنے حال کا جائزہ لینے لگتا ہے۔ روزہ آدمی کے اندر مزید اضافے کے ساتھ یہ احساس بیدار کرتا ہے کہ وہ مرنے والا ہے اور مرنے کے بعد وہ خدا کے سامنے کھڑا ہونے والا ہے۔ اس احساس کے تحت، وہ چاہنے لگتا ہے کہ وہ قیامت کی عدالت میں پیش ہونے سے پہلے اپنا حساب کرلے، تاکہ وہ آخرت میں خدا کی پکڑ سے بچ جائے۔ رمضان کے مہینے میں روزہ رکھنا، بلاشبہ آدمی کی خطاؤں کی معافی کا ذریعہ ہے، مگر خطاؤں کی یہ معافی پر اسرار طور پر خود بخود نہیں ہوتی، یہ اُس شعوری عمل کے ذریعے ہوتی ہے جس کو شریعت میں محاسبہ کہا گیا ہے۔ روزہ آدمی کے اندر شدت کے ساتھ محاسبہ کی نفسیات جگاتا ہے۔ آدمی ایک ایک کر کے اپنی خطاؤں کو یاد کرتا ہے اور اپنی تنہائیوں میں اُس پروہ خدا سے معافی کی دعائیں کرتا ہے۔ یہ احساس اُس پر اتنی شدت کے ساتھ طاری ہوتا ہے کہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں۔ دراصل روزے دار کے یہی آنسو ہیں جو خدا کی رحمت کے تحت، اُس کی خطاؤں کو دھو دیتے ہیں۔ مذکورہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ خطاؤں کی معافی، کیفیات سے بھرے ہوئے روزے کا نتیجہ ہوتی ہے، نہ کہ سالانہ رسم کے طور پر بے روح روزے داری کا نتیجہ۔ اسپرٹ، نہ کہ فارم حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جاء ثلاثة رهطٍ إلى بيوت أزواج النبي صلى الله عليه وسلم يسألون عن عبادة النبي صلى الله عليه وسلم، فلمّا أخبروا كأنهم تقالّوها فقالوا: و أين نحن من النبي صلى الله عليه وسلم، قد غفر الله له ما تقدم من ذنبه وما تأخر ۔ قال أحدهم: أما أنا، فأصلي الليل أبداً، وقال آخر: أنا أصوم الدهر ولا أفطر، وقال آخر : أنا أعتزل النساء فلا أتزوج أبداً، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أنتم الذين قلتم كذا وكذا، أما والله إني لأخشاكم لله وأتقاكم له، لكنّى أصوم وأفطر، وأصلي وأرقد، وأتزوج النساء، فمن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader