صومِ رمضان
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
رغب عن سنتي فليس مني (صحیح البخاری، كتاب النكاح، باب: الترغيب في النكاح)۔ یعنی صحابہ میں سے تین شخص ازواجِ رسول کے گھر پر آئے۔ انھوں نے آپ کی ازواج سے آپ کی عبادت کے بارے میں پوچھا۔ جب اُن کو آپ کی عبادت کے بارے میں بتایا گیا، تو گویا کہ انھوں نے اس کو کم سمجھا۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا مقابلہ، اللہ نے آپ کی اگلی اور پچھلی خطاؤں کو بخش دیا ہے۔ اُن میں سے ایک نے کہا: میں تو اپنی رات کو ہمیشہ نماز پڑھنے میں گزاروں گا۔ دوسرے نے کہا: میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا۔ اور تیسرے نے کہا: میں ہمیشہ عورتوں سے دور رہوں گا اور کبھی نکاح نہیں کروں گا۔ اسی دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگئے۔ آپ نے فرمایا: کیا تمھیں لوگوں نے ایسا اور ایسا کہا ہے۔ میں، خدا کی قسم، تم میں سب سے زیادہ خدا سے ڈرتا ہوں اور تم میں سب سے زیادہ خدا کا تقویٰ رکھنے والا ہوں، لیکن میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور روزہ نہیں بھی رکھتا، اور میں قیام لیل بھی کرتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ پس جو میری سنت سے اعراض کرے، وہ مجھ سے نہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عبادت کا تعلق کیفیت سے ہے، نہ کہ کمیت سے۔ یہی معاملہ روزے کا ہے۔ اللہ کے نزدیک اصل اہمیت روزے کی اسپرٹ کی ہے، نہ کہ اس کے ظاہری فارم کی۔ رحمت الہی کا مستحق کون حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إذا دخل شهر رمضان فتحت أبواب السماء۔ وفي رواية: فُتحت أبواب الجنّة، وغُلّقت أبواب جهنّم، وسُلسلت الشياطين۔ وفي رواية: فُتحت أبواب الرحمة (صحيح البخاري، كتاب الصّوم، باب: هل يُقال رمضان) یعنی جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ اور دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، اور جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین کو قید

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader