صومِ رمضان
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
کر دیا جاتا ہے۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ رحمت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ اس حدیث میں جنت اور جہنم، یا شیاطین کی نسبت سے جو بات کہی گئی ہے، وہ دراصل تمثیل کی زبان (symbolic language) میں ہے۔ کلام کا اصل مقصود وہی ہے جس کو فتحت أبواب الرحمۃ‘ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی رحمت کے دروازوں کا کھل جانا، یا رحمتِ خداوندی کے حصول کے مواقع میں اضافہ ہو جانا۔ رمضان کے مہینے کے یہ فوائد جو اس حدیث میں بیان کیے گئے ہیں، وہ پر اسرار طور پر خود بخود جانے والے فوائد نہیں ہیں، بلکہ وہ پوری طرح معلوم فوائد ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رمضان کے مہینے میں اگر اس کی مطلوب اسپرٹ کے ساتھ روزہ رکھا جائے، تو ایسا روزہ آدمی کے لیے اُن فوائد کے حصول کا سبب بن جاتا ہے، جن کا ذکر مذکورہ حدیث میں کیا گیا، یعنی روزے دار کے اندر اُن صفات کا پیدا ہونا جو اس کو خدا کی رحمت کا مستحق بنا دیں۔ اس کے برعکس، جو لوگ صرف فارم کے اعتبار سے روزہ رکھیں، اُن کا روزہ اُس حدیثِ رسول کا مصداق ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ کچھ روزے دار وہ ہیں جن کو اپنے روزے سے بھوک اور پیاس کے سوا کچھ اور نہیں ملتا (كم من صائم ليس له من صيامه إلا الجوع والعطش_ النسائی، ابن ماجه)۔ حلال سے روزہ، حرام سے افطار حضرت انس بن مالک کہتے ہیں کہ دو عورتوں نے روزہ رکھا اور دونوں نے ایک ساتھ بیٹھ کر دوسروں کی غیبت کی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کے بارے میں معلوم ہوا، تو آپ نے فرمایا یا: إنّهما لم يصوما، و كيف صام من ظلّ هذا اليوم يأكل لحوم الناس۔ یعنی أن دونوں نے روزہ نہیں رکھا۔ بھلا اُس کا روزہ کیسے ہوگا جو روزہ رکھے اور غیبت کر کے لوگوں کا گوشت کھائے۔ ایک اور روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں: إن هاتين صامتا عمّا أحلّ الله لهما و أفطرتا على ما حرّم الله عليهما (مجمع الزوائد)،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader