Urdu book · صومِ رمضان

صومِ رمضان

Urdu book, p. 19

By Maulana Wahiduddin Khan

کتاب الصيام، باب الغیبة للصائم) یعنی انہوں نے اُس چیز سے روزہ رکھا جو اللہ نے اُن کے لیے حلال کیا تھا، اور پھر انھوں نے اُس چیز سے افطار کر لیا جو اللہ نے اُن کے لیے حرام کیا تھا۔ اس حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ روزے میں صرف یہ حرام نہیں ہے کہ آدمی دن کے اوقات میں کھانا کھالے اور پانی پی لے، اِس کے سوا بھی کچھ چیزیں حرام ہیں اور وہ روزے کو باطل کرنے والی ہیں۔ مثلاً دوسروں کی برائی بیان کرنا۔ جو آدمی روزہ رکھے اور کھانے پینے کی چیزوں سے بچا رہے، لیکن اِسی کے ساتھ وہ دوسروں کی برائی بیان کرے، تو اُس کا روزہ مطلوب روزہ نہ ہوگا، اِس کا روزہ صرف بھوکا اور پیاسا رہنے کے ہم معنی ہوگا۔ روزہ توڑنے کی ایک شکل یہ ہے کہ آدمی روزہ رکھتے ہوئے جان بوجھ کر مادی ممنوعات پر عمل کرنے کا ارتکاب کرے، مثلاً وہ کھانا کھالے، یا پانی پی لے۔ اِسی طرح، روحانی اور اخلاقی اعتبار سے بھی کچھ ممنوعات ہیں، مثلاً دوسروں کی برائی اور غیبت کرنا۔ اگر آدمی روزہ رکھ کر روحانی اور اخلاقی ممنوعات کا ارتکاب کرے، تو ایسے ارتکاب سے بھی اس کا روزہ باطل ہو جائے گا، بظاہر روزہ رکھ کر بھی وہ روزے کے ثواب سے محروم رہے گا۔ روزہ غذائی پرہیزگاری کا نام بھی ہے، اور اخلاقی پرہیزگاری کا نام بھی۔ روزے میں اخلاقی پر ہیز بھی اُسی طرح ضروری ہے، جس طرح غذائی پر ہیز۔ حقیقتِ صوم قرآن اور حدیث میں روزہ کے لیے صوم کا لفظ آیا ہے۔ صوم کے لفظی معنی ہیں__ رُکنا (abstinence)، کسی چیز سے پر ہیز کرنا۔ انسان جیسی مخلوق کے لیے اِس کی بے حد اہمیت ہے۔ انسان کا معاملہ رفتی پرسنٹ رکنا ہے، اور فقتی پرسنٹ کرنا۔ آدمی جب ایک غیر مطلوب چیز سے رکھتا ہے، اُسی وقت وہ ایک مطلوب کام کو کر پاتا ہے۔ یہی وہ ضروری استعداد ہے جس کی تربیت انسان کو روزے کے ذریعے دی جاتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page