Urdu book · صومِ رمضان

صومِ رمضان

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

مثلاً توحید کو لیجیے ۔ انسان جب غیر اللہ کو بڑا بنانے سے اپنے کو روکتا ہے ، اُس کے بعد ہی اُس کے لیے ممکن ہوتا ہے کہ وہ اللہ کو اپنا بڑا بنا سکے ۔۔ انسان جب غیر پیغمبرانہ رہ نمائی کو چھوڑتا ہے، اس کے بعد ہی وہ پیغمبرانہ رہ نمائی کو قبول کرتا ہے۔ انسان جب قرآن کے سوا دوسری کتابوں کے غیر مستند ہونے کو دریافت کرتا ہے، اس کے بعد ہی وہ قرآن کو مستند ہدایت نامہ کی حیثیت سے اختیار کرتا ہے۔ اسی طرح، انسان جب شیطان کی صحبت کو ترک کرتا ہے، اس کے بعد ہی وہ اپنے آپ کو فرشتوں کی صحبت کے قابل بناتا ہے۔ انسان جب اپنی خواہش کی پیروی کو ترک کرتا ہے، اس کے بعد ہی وہ مرضیاتِ الہی کی پیروی کے قابل بنتا ہے۔ انسان جب اپنے اندر سے فخر و غرور کے مزاج کو ختم کرتا ہے، اس کے بعد ہی وہ تواضع (modesty) کے مزاج کا حامل بنتا ہے۔ انسان جب اپنے مال میں اسراف سے کامل پر ہیز کرتا ہے، اس کے بعد ہی وہ سادگی اور قناعت کے طریقے کو اپناتا ہے۔ انسان جب غیر ذمہ دارانہ روش کو ترک کرتا ہے، اس کے بعد ہی وہ اس قابل بنتا ہے کہ وہ سنجیدگی اور متانت کی روش کو اپنی روش بنا سکے۔ ترک و اختیار کا یہ معاملہ پوری زندگی سے تعلق رکھتا ہے۔ اس طریقے کو اختیار کیے بغیر کوئی شخص اپنی زندگی کو اسلامی زندگی نہیں بنا سکتا۔ روزے کے ذریعے آدمی کے اندر یہی اسپرٹ پیدا کرنا مقصود ہے۔ جو آدمی ’’ترک‘‘ کے اس اصول کو نہ مانے، وہ ’’اختیار‘‘ کی سعادت کا تجربہ بھی نہیں کر سکتا۔ نیت کی اہمیت حضرت حفصہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من لم يُجمع الصيام قبل الفجر فلا صيام له (الترمذي، كتاب الصوم، باب: لا صيام لمن لم يعزم) یعنی جس شخص نے طلوع فجر سے پہلے، روزہ رکھنے کا پختہ عزم نہیں کیا، اس کا روزہ نہیں۔ اس حدیثِ رسول سے روزے کے عمل میں نیت کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ اس کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page