Urdu book · صومِ رمضان

صومِ رمضان

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

مطلب یہ ہے کہ روزے کا وقت شروع ہونے سے پہلے آدمی کو چاہیے کہ وہ شعوری طور پر اپنے اندر یہ ارادہ پیدا کرے کہ میرا آنے والا دن روزے کا دن ہوگا۔ گویا کہ باقاعدہ ارادے کے بغیر صرف بھوکا رہ جانے کا نام روزہ نہیں۔ دوسرے شرعی اعمال کی طرح، روزہ ایک باشعور دینی عمل ہے، یعنی ایک ایسا عمل جس کو آدمی زندہ شعور کے ساتھ انجام دے۔ عمل کے دوران وہ اُسی کے لیے سوچے، وہ اُسی کی کیفیات میں جئے، وہ اُن ربانی احساسات کو اپنے اوپر طاری کرے جو روزے کے دنوں میں ایک مومن سے خدا کو مطلوب ہیں۔ گویا کہ اس کا روزہ صرف جسمانی روزہ نہ ہو، بلکہ اؔس کا شعور اور اس کے جذبات بھی اُس کے عمل کی روح کی حیثیت سے اس میں شامل ہو گئے ہوں۔ ایک سچا مومن جب زندہ نیت کے ساتھ اپنے روزے کا آغاز کرتا ہے، تو اس کی سوچ بھی اِسی رخ پر متحرک ہو جاتی ہے۔ وہ روزے کے بارے میں سوچتا ہے۔ بھوک اور پیاس کے تجربات کے دوران وہ اعلیٰ روحانی حقیقتوں کا تجربہ کرتا رہتا ہے۔ جب وہ قرآن کی تلاوت کرتا ہے، یا نماز ادا کرتا ہے، تو اس کی روزہ دارانہ زندگی اس کی تلاوت اور اس کی نماز میں ایک نئی روح پیدا کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ روزے کی حالت میں دن گزارنا اور قیام کی حالت میں رات گزارنا، اس کے لیے خدا سے خصوصی قربت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ حقیقی روزہ وہ ہے جو آدمی کی پوری زندگی کو روزہ رخ زندگی (Roza-oriented life) بنا دے۔ روزہ: ایک زندہ عمل حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ نَسِیَ وَھُو صَائِم فَأَکَلَ أو شرب، فَلْيُتِمَّ صَومہ فإنما أطعمه الله وسقاه (صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب : اَکْلِ النَّاسِی) یعنی جو شخص روزہ رکھے اور وہ بھول کر کچھ کھا لے یا پی لے، تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنا روزہ پورا کرے، کیوں کہ یہ اللہ ہے جس نے اس کو کھلایا اور پلایا۔ روزہ اگر خالص قانونی نوعیت کی چیز ہو تو بظاہر ایسا ہونا چاہیے کہ اگر کوئی شخص روزے کی حالت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page