Urdu book · صومِ رمضان

صومِ رمضان

Urdu book, p. 22

By Maulana Wahiduddin Khan

میں ہوا اور دن کے اوقات میں کبھی وہ بھول کر کچھ کھا لے یا پی لے، تو اس کا روزہ ٹوٹ جانا چاہیے۔ روزہ اگر صرف ایک ظاہری صورت کا نام ہو تو دن کے وقت کچھ کھانے یا پینے سے ہر حال میں اس کا روزہ ٹوٹ جانا چاہیے، خواہ اس نے جان کر کھایا ہو، یا بھول کر کھایا ہو۔ قانونی نوعیت کی چیزوں کے بارے میں مشہور مقولہ ہے کہ ــــ قانون سے بے خبری کسی کے لیے عذر نہیں: Ignorance of law has no excuse. پھر کیا وجہ ہے کہ حدیث میں یہ بتایا گیا ہے کہ بھول کر کھانے پینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ روزہ کوئی ٹیکنکل نوعیت کا قانونی فعل نہیں، روزہ ایک زندہ انسان کا عمل ہے۔ زندہ انسان کا معاملہ یہ ہے کہ اگر اُس سے کوئی غلطی ہو جائے تو فوراً اس کے اندر ایک نئی سوچ جاگ اُٹھتی ہے۔ یہ نئی سوچ اس کی بھول کو ایک مثبت عمل بنا دیتی ہے۔ وہ اس بھول میں اپنے عجز اور خدا کی قدرت کو دریافت کر لیتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ انسان کتنا زیادہ کم زور ہے، اُس کے مقابلے میں خدا کتنا زیادہ قوی اور عزیز ہے کہ وہ کبھی کسی چیز کو نہیں بھولتا (لا یضل ربی ولا ینسی)۔ یہ دریافت ایک زندہ انسان کو خدا سے اور زیادہ قریب کر دیتی ہے۔ وہ مزید اضافے کے ساتھ خدا کی رحمتوں کا مستحق بن جاتا ہے جو غلطی، معرفت میں اضافے کا سبب بن جائے، وہ غلطی نہیں ہے، بلکہ وہ ایک زندہ ربانی تجربہ ہے۔ دور زوال کا ظاہرہ حضرت ابوذر غفاری کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تزال أمّتي بخير ما عجلوا الإفطار و آخروا السُّحور (مسند احمد، جلد 5، صفحہ 147) یعنی میری امت کے لوگ اُس وقت تک خیر پر قائم رہیں گے جب تک کہ وہ افطار میں جلدی کریں گے اور سحری میں تاخیر کریں گے۔ اس حدیث میں خیر سے مراد دین کی روح (spirit) ہے۔ اس حدیث کے مطابق، رمضان کے مہینے میں افطار میں تعجیل اور سحری میں تاخیر اس بات کی علامت ہے کہ امت خیر پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page