Urdu book · صومِ رمضان

صومِ رمضان

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے، یعنی امت کے اندر دین کی حقیقی روح زندہ ہے۔ اور جب معاملہ اس کے برعکس ہو جائے، یعنی لوگ افطار میں ’احتیاطی تاخیر‘ کرنے لگیں، اور وہ سحری میں ’احتیاطی تعجیل‘ کرنے لگیں، تو یہ اس بات کی علامت ہوگی کہ امت کے اندر سے خیر نکل گیا ہے، یعنی امت دین کی روح (spirit) پر قائم نہیں ہے، بلکہ وہ صرف دین کی شکل (form) پر قائم ہے۔ اور اس قسم کی حالت اللہ کے نزدیک مطلوب حالت نہیں۔ تعجیل یا تاخیر سے مراد تعجیل یا تاخیر نہیں ہے، بلکہ وقت کی ٹھیک ٹھیک پابندی ہے۔ افطار میں دیر کرنے کا مزاج کیوں ہوتا ہے، اور سحری میں جلدی کرنے کا مزاج کب پیدا ہوتا ہے۔ ایسا اُس وقت ہوتا ہے، جب کہ امت کے افراد میں روح دین باقی نہ رہے، وہ محض شکل کی بجا آوری کو دین سمجھنے لگیں۔ ’احتیاط‘ کا ذہن ہمیشہ ظاہری صورت، یا فارم کے بارے میں پیدا ہوتا ہے۔ لوگ ظاہری صورت کے اہتمام کو اہم چیز سمجھنے لگتے ہیں۔ ظاہری پہلو میں کمی اُن کے نزدیک، دین کو ناقص بناتی ہے، اور ظاہری پہلو میں اضافہ کر کے وہ سمجھتے ہیں کہ انھوں نے اپنے دین کو مکمل کر لیا۔ مذکورہ حدیث میں اِسی زوال یافتہ مزاج کی نشان دہی کی گئی ہے۔ زندہ دین داری، آدمی کو اسپِرت کانشس (spirit-conscious) بناتی ہے، اور جب زندہ دین داری باقی نہ رہے، تو لوگ فارم کانشس (form-conscious) بن جاتے ہیں۔ اس حقیقت کا تعلق، صرف روزے سے نہیں ہے، بلکہ تمام دینی اعمال سے ہے۔ فارم اور اسپِرت کا فرق قرآن کی سورہ نمبر 2 میں رمضان کے مہینے میں روزے کا حکم ایک پورے رکوع میں بیان ہوا ہے۔ اس میں روزے کے بارے میں دو قسم کی رخصتوں کا ذکر ہے۔ ایک رخصت (concession) مستقل رخصت ہے جو ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے: وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين (البقرة: 184) یعنی جو لوگ اُسے مشکل ہی سے برداشت کر سکیں، اُن کے ذمے فدیہ ہے ایک مسکین کا کھانا (ترجمہ: مولانا عبد الماجد دریا بادی)۔ اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page