Urdu book · صومِ رمضان

فارم اور اسپِرت کا فرق

Urdu book, p. 24

By Maulana Wahiduddin Khan

سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی عذرِ شرعی کی بنیاد پر مستقل طور پر روزہ رکھنے کے قابل نہ رہیں، ایسے لوگوں کے لیے شریعت میں یہ رخصت ہے کہ وہ رمضان کے مہینے میں روزہ نہ رکھیں اور روزہ کے بجائے اُس کے کفارہ کے طور پر اِس کا فدیہ ادا کریں۔ رخصت کی دوسری صورت، قرآن میں اِن الفاظ میں بیان ہوئی ہے : ومن كان مريضاً أو على سفرٍ فعدّةٌ من أيامٍ أخر (البقرہ: 185) یعنی جو کوئی بیمار ہو، یا سفر میں ہو تو اِس کو گنتی پوری کرنی چاہیے اور دنوں میں۔ یہ عارضی رخصت کا معاملہ ہے، یعنی آدمی روزہ رکھنے کے قابل ہو اور وقتی طور پر اِس کو عذرِ شرعی لاحق ہو جائے، تو وہ عذر کے بقدر روزہ چھوڑ دے اور رمضان کے بعد اپنے چھوٹے ہوئے روزے کو دوبارہ پورا کرلے۔ ان دو رخصتوں کے بیان کے بعد قرآن میں یہ آیت آئی ہے: يريد الله بكم اليسر ولا يريد بكم العُسر، ولتكملوا العِدّة ولتكبروا الله على ما هداكم، ولعلكم تشكرون (البقرہ: 185) یعنی اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے، وہ تم پر دشواری نہیں چاہتا، اور چاہتا ہے کہ تم تعداد پوری کرو اور تا کہ تم بڑائی کرو اللہ کی، اِس بات پر کہ اِس نے تم کو ہدایت دی اور تا کہ تم اُس کا شکر ادا کرو۔ قرآن کی ان آیتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی احکام کے دو حصے ہیں۔ ایک حصہ وہ ہے جو متعلقہ حکم کے فارم کی حیثیت رکھتا ہے۔ روزے کا فارم یہ ہے کہ آدمی دن کے اوقات میں کھانا، پینا اور دوسری ممنوعات کو ترک کر دے۔ روزے کی اسپرٹ تکبیر اور شکر ہے، یعنی آدمی کے اندر اللہ کی کبریائی کا احساس طاری ہونا، اور اللہ کے انعامات پر گہرے شکر کا جذبہ پیدا ہونا۔ مذکورہ آیتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن میں فارم اور اسپرٹ کے درمیان فرق کیا گیا ہے۔ اِس فرق کو مذکورہ آیت میں ’عُسر‘ اور ’يُسر‘ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اگر روزے کے فارم کو مطلق حیثیت دے کر، اُس کو ہر حال میں لازم کر دیا جائے تو یہ اہل ایمان کے لیے عُسر (دشواری) کا باعث ہو جائے گا، اِس لیے فارم کے معاملے میں عُسر کے بجائے، يُسر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page