Urdu book · صومِ رمضان

صومِ رمضان

Urdu book, p. 25

By Maulana Wahiduddin Khan

(آسانی) کا طریقہ اختیار کیا گیا ہے، یعنی رخصت کا طریقہ۔ مگر جہاں تک دینی احکام کے دوسرے پہلو، یعنی اسپرٹ کا معاملہ ہے، اِس میں کسی قسم کی رخصت نہیں، اسپرٹ کا پہلو ہر حال میں اور مطلق طور پر اہل ایمان سے مطلوب ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ جب فارم کی ادائیگی میں عُسر (دشواری) کی صورت پیدا ہو جائے، تو اُس وقت شریعت کا تقاضا ہوگا کہ فارم کے معاملے میں ایڈجسٹ مینٹ کا طریقہ اختیار کیا جائے، تا کہ اسپرٹ کا پہلو کسی نقص کے بغیر مسلسل طور پر باقی رہے۔ روزے میں بھوک، پیاس کا تعلق فارم سے ہے، اس لیے اُس میں رخصت کا طریقہ اختیار کیا گیا۔ اس کے مقابلے میں، تکبیر رب اور شکر الہی کا تعلق، روزے کی اسپرٹ سے ہے، اس لیے اس کو مطلق حیثیت دے کر مسلسل طور پر باقی رکھا گیا ہے۔ یہ اسلامی شریعت کا ایک اہم اصول ہے۔ اس اصول کا تعلق، صرف روزے سے نہیں، بلکہ دوسرے تمام دینی معاملات سے بھی ہے۔ جب بھی ایسا ہو کہ کسی دینی حکم کی ادائیگی میں عُسر کا مسئلہ پیدا ہو جائے تو اُس وقت متعلقہ حکم کے فارم میں ایڈجسٹ مینٹ کیا جائے گا، تا کہ متعلقہ حکم سے جو اسپرٹ مطلوب ہے، وہ اسپرٹ کسی قسم کے خلل کے بغیر پوری طرح باقی رہے۔ یہ شریعت کا ایک تخلیقی اصول (creative principle) ہے۔ یہ اصول اس بات کا ضامن ہے کہ شریعت کی اصل روح مسلسل طور پر اہل ایمان کے درمیان باقی رہے، اور اِس میں کسی بھی حال میں کوئی کمی نہ آنے پائے۔ روزہ اور تزکیہ نفس روزہ ایک سچے انسان کے لیے ایک قسم کی یاد دہانی (reminder) ہے، اس بات کی یاد دہانی کہ تم خدا کی دنیا میں ہو تم ایک ایسی دنیا میں ہو جس کو خدا نے بنایا ہے۔ اس دنیا کے مالک تم نہیں ہو، بلکہ خدا اُس کا مالک ہے۔ یہاں تم اپنی مرضی کے ساتھ نہیں رہ سکتے، یہاں تم اپنی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page