Urdu book · صومِ رمضان

صومِ رمضان

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

اللہ، انسان کا منعم حقیقی ہے۔ اللہ نے انسانوں کو ان گنت نعمتیں عطا کی ہیں۔ ان نعمتوں پر اللہ کا حقیقی شکر ادا کرنا، اللہ کی سب سے بڑی عبادت ہے۔ روزہ کے ذریعہ جب انسان کے اندر ان نعمتوں کا احساس جگایا جاتا ہے تو آدمی کا شعور بیدار ہو جاتا ہے۔ وہ غفلت سے باہر آ جاتا ہے۔ وہ احساسِ نعمت سے سرشار ہو کر حقیقی معنوں میں اللہ کا شکر گزار بندہ بن جاتا ہے۔ روزہ، جذباتِ شکر کی بیداری کا ذریعہ ہے۔ انسان ہر وقت انعاماتِ خداوندی کے سمندر میں رہتا ہے، مگر عام حالات میں اس کو ان نعمتوں کا زندہ احساس نہیں ہوتا۔ روزہ آدمی کو اس قابل بناتا ہے کہ وہ ان نعمتوں کو از سر نو دریافت کر کے اپنے رب کی اعلیٰ معرفت حاصل کرے۔ روزہ دارانہ زندگی ایک فارسی شاعر نے روزہ اور رمضان کے بارے میں اپنے تجربات کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:۔ روزے کا مقصد لوگوں کے اندر ریاضت کا مزاج پیدا کرنا تھا، مگر رمضان آیا تو ریاضت کے بجائے، لوگوں کے یہاں کھانے پینے کی دھوم میں اور اضافہ ہو گیا: تن پروری خلق فزوں شد، نہ ریاضت جو گرمیِ افطار، نہ دارد رمضان هیچ رمضان کے مہینے میں یہ منظر ہر جگہ دکھائی دیتا ہے، مشرق اور مغرب اور عرب اور عجم کے درمیان اس معاملے میں کوئی فرق نہیں۔ ہر جگہ رمضان کا مہینہ کھانے پینے کی مزید سرگرمیوں کا مہینہ بن گیا ہے۔ ایسا کیوں ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ رمضان کا مہینہ صرف اُن لوگوں کے لیے روزے کا مہینہ بنتا ہے جو سال بھر روزہ دارانہ زندگی (Roza-oriented life) گزار رہے ہوں۔ جو لوگ سال کے بقیہ مہینوں میں غیر روزہ دار بنے ہوئے ہوں، ان کے درمیان جب، رمضان کا مہینہ آئے گا تو وہ اُسی کلچر میں اضافے کا سبب بنے گا جس کلچر میں وہ اس سے پہلے زندگی گزار رہے تھے۔ آج کل لوگوں کی زندگی کا مقصد یہ بن گیا ہے کہ خوب کھاؤ اور اچھے اچھے کھانے کھاؤ۔ یہی تقریباً تمام لوگوں کی سوچ ہے اور یہی عملی طور پر لوگوں کا کلچر ہے۔ اسی قسم کی زندگی کے وہ پوری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page