صومِ رمضان
Urdu book, p. 44
By Maulana Wahiduddin Khan
طرح عادی بنے ہوئے ہیں، وہ اس کے سوا زندگی کے کسی اور پیٹرن کو جانتے ہی نہیں۔ ایسی حالت میں جب ان کے درمیان رمضان کا مہینہ آتا ہے تو وہ ان کے کھانے پینے کے کلچر کی ایک توسیع کے ہم معنی ہوتا ہے۔ رمضان ان کے اُسی ذوق میں مزید اضافہ کر دیتا ہے جس کے وہ اب تک عادی بنے ہوئے تھے۔ یہی سبب ہے کہ جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو وہ ان کے لیے صرف افطار اور سحری کی دھوم کے ہم معنی بن جاتا ہے۔ رمضان کا مہینہ اس لیے آتا ہے، تاکہ لوگوں کے اندر سادگی اور قناعت کا مزاج پیدا ہو۔ لوگوں کا اشتغال انسانوں کے درمیان کم ہو، اور اللہ کے ساتھ ان کے تعلق میں اضافہ ہو جائے، مگر عملاً یہ سب نہیں ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ سال بھر روزہ دارانہ زندگی گزاریں، وہی رمضان کے مہینے میں سچے روزے دار بنیں گے۔ روزہ کا تعلق پوری زندگی سے رمضان کے مہینے کا روزہ کسی قسم کی سالانہ رسم (annual custom) نہیں، وہ ایک زندہ تخلیقی عمل (creative process) ہے۔ روزے کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے۔ روزے کا مقصد دراصل یہ ہے کہ آدمی کی پوری زندگی روزہ رخی زندگی (Roza-oriented life) بن جائے۔ روزے کی اصل حقیقت خواہشات (desires) پر روک لگانا ہے۔ اسی کو حدیث میں یَدَعُ شَہْوَتَہُ (خواہش کو چھوڑنا) بتایا گیا ہے۔ پیاس ایک خواہش ہے، بھوک ایک خواہش ہے، نیند ایک خواہش ہے، معمول کے مطابق زندگی گزارنا ایک خواہش ہے۔ روزے کے مہینوں میں ان سب خواہشوں پر قانونارُوک لگائی جاتی ہے، تا کہ آدمی اسی طرح اپنی دوسری خواہشوں پر ارادتاًرُوک لگائے۔ وہ خود اپنے فیصلے کے تحت ایک پابند زندگی گزارنے لگے۔ انسان کی زندگی میں جتنے بھی اعمال ہیں، ان سب میں ففٹی ففٹی کا تناسب ہے، یعنی ففٹی پرسنٹ کسی چیز سے رکنا ہے، اور اس کا ففٹی پرسنٹ کسی چیز پر عمل کرنا۔ اسلامی شریعت میں الا اللہ سے پہلے لا الہ آتا ہے۔ منفی اور ایجابی پہلو کا یہی تناسب تمام دینی اعمال میں پایا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader