صومِ رمضان
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
جاتا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھے تو روزے کا مقصد یہ ہے کہ آدمی اپنی تمام خواہشات پر بر یک لگائے، تا کہ وہ اس دنیا میں اپنے آپ کو مطلوب اعمال پر قائم کر سکے۔ تمثیل کی زبان میں کہا جائے تو روزے کی حیثیت انسانی زندگی میں انجن میں لگے ہوئے بر یک (brake) جیسی ہے۔ ہر یک گاڑی کے انجن کو قابو میں رکھتا ہے، اسی لیے گاڑی درست طور پر اپنا سفر طے کرتی ہے۔ اگر کسی انجن میں بر یک نہ ہو تو انجن درست طور پر کام نہیں کرے گا۔ یہی معاملہ مومن کی زندگی میں روزے کا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ روزے کو اپنی زندگی میں بر یک کا مقام دے، تا کہ وہ خدا کے راستے پر درست طور پر اپنا سفر طے کر سکے۔ اُسی آدمی کا روزہ حقیقی روزہ ہے جس کا روزہ اس کے لیے ممنوعاتِ خداوندی کے مقابلے میں بر یک کے ہم معنی بن جائے۔ مسائلِ رمضان مسائلِ رمضان سے مراد، رمضان یا روزے کے فقہی یا قانونی مسائل ہیں۔ ان مسائل کا چرچا ہر مسجد اور ہر مدرسے میں ہوتا ہے، اس بنا پر لوگ عام طور پر روزہ اور رمضان کے فقہی مسائل سے واقف ہوتے ہیں۔ اسی واقفیت کا یہ نتیجہ ہے کہ لوگ ہر سال رمضان کے مہینے میں آسانی کے ساتھ روزہ رکھتے ہیں اور اُس کے ضروری احکام کی پابندی کرتے ہیں۔ اس لیے ان مسائل کی تفصیلات بیان کرنے کی ضرورت نہیں، البتہ یہاں اس کے کچھ بنیادی پہلوؤں کا ذکر کیا جاتا ہے۔ روزے کا وقت طلوع فجر سے شروع ہوتا ہے اور غروب آفتاب پر ختم ہو جاتا ہے۔ روزہ ہر بالغ عورت اور مرد پر فرض ہے، الا یہ کہ اُس کو کوئی ایسا عذر لاحق ہو جس کو شریعت میں معتبر مانا گیا ہو۔ روزے کا آغاز نیت سے ہوتا ہے۔ یہ نیت آدمی کو طلوع فجر سے پہلے، یا سحری کھانے کے وقت کرنا چاہیے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader