دیباچہ
Urdu book, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
سوال اس وقت مسلم دنیا میں بہت سی اسلامی تحریکیں چل رہی ہیں ۔ آپ اپنے اور ان کے درمیان کیا فرق سمجھتے ہیں؟ جواب ان مختلف تحریکوں کو وسیع تقسیم (broad division) میں دو قسموں میں بانٹا جا سکتا ہے۔ ایک وہ جو اسلام کو دعوت وتبلیغ کے مشن کے طور پر لے کر اٹھی ہیں۔ دوسری وہ جو سیاسی انقلاب کے مقصد کے تحت کام کر رہی ہیں۔ ایک کا نشانہ اگر دعوتى اسلام‘‘ ہے تو دوسرے کا نشانہ ’’سیاسی اسلام‘‘۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہی تحریک صحیح اسلامی تحریک ہے جو دعوتى اسلام‘‘ کے لئے اٹھے۔ ’’سیاسی اسلام‘‘ کو لے کر اٹھنے والوں کا کیس صراط مستقیم سے انحراف (deviation) کا کیس ہے۔ قرآن کے الفاظ میں، وہ اتباع سبل ہے نہ کہ اتباع صراط۔ یہ اس معاملے کا نظری پہلو ہے۔ اسی کے ساتھ اس کا ایک عملی پہلو بھی ہے۔ وہ یہ کہ دعوتی اسلام کی موجودہ تحریک زیادہ تر ’’فضائل‘‘ کی بنیاد پر چلائی جارہی ہے، جب کہ سیاسی یا انقلابی اسلام کی تحریک ’’دلائل‘‘ کی بنیاد پر چل رہی ہے۔ اس فرق کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ دعوتی اسلام کے مشن کی صحت کے باوجود امت کا انٹلکچول طبقہ (intellectual class) ابھی تک اس سے جڑ نہ سکا۔ یہ طبقہ جس کو خواص کا طبقہ کہا جا سکتا ہے، وہ اپنی ذہنی ساخت کی وجہ سے بات کو دلائل کے اسلوب میں سمجھنا چاہتا ہے، مگر دعوتی اسلام کے حاملین کا موجودہ انداز خطاب ان کے دلائل پسند مزاج کو مطمئن نہیں کر پاتا۔ اسی بنا پر آج یہ صورت حال ہے کہ امت کے طبقہ خواص کا بیشتر حصہ سیاسی اسلام سے قریب اور دعوتی اسلام سے دور ہے۔ الرسالہ مشن کا خاص مقصد ’’دعوتی اسلام‘‘ کو دلائل کی بنیاد پر کھڑا کرنا ہے تا کہ امت کا ذہن اور باشعور طبقہ دعوتی اسلام کی اہمیت کو سمجھے اور اپنے آپ کو اس مہم میں لگائے۔ یہ انتہائی ضروری ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader