دیباچہ
Urdu book, p. 8
By Maulana Wahiduddin Khan
کیوں کہ امت کا طبقۂ خواص جب تک دعوتی مشن میں نہ لگے، صرف طبقۂ عوام کی بنیاد پر کوئی گہری تحریک برپا نہیں کی جاسکتی، اور نہ کوئی بڑی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ ’’دعوتی اسلام‘‘ کے موجودہ طریقہ کے ذریعہ محدودمعنوں میں عوام کے اندر کچھ اصلاح کا کام کیا جاسکتا ہے۔ مگر اصل مسئلہ اسلام کی از سر نو تاریخ بنانے کا ہے۔ جس کو تجدید دین کہا جاسکता ہے، اور حقیقی تجدید دین اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وقت کے اہل علم کو دعوتی اسلام کا حامی نہ بنایا جائے۔۔ (تفصیلات کیلئے رجوع کریں الرسالہ دسمبر ۱۹۹۱ء) سوال قربانی (ذبیحہ) جذبۂ رحم کے منافی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ جانوروں کے تڑپنے کے بعد جو گوشت ہمیں کھانے کو ملتا ہے اس کی تڑپ اگر ذہن میں رکھے تو کھانے کو جی نہیں چاہتا۔ جب کہ یہ گوشت کھانا اسلام میں جائز ہے۔ (شکیل احمد، ورورہ، چندر پور) جواب یہ مسئلہ صرف قربانی کا نہیں ہے۔ بلکہ وہ خود قانون فطرت کا ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، آپ خواہ کچھ بھی کریں۔ ہوا میں سانس لیں، پانی پیئیں، سبزی کھائیں، دودھ پئیں ۔ ہر حال میں آپ جانوں کو ہلاک کرتے ہیں۔ قربانی میں ایک جانور کو ہلاک کیا جاتا ہے اور عام حالات میں بیکٹیریا کو۔ اور زندہ جسم ہونے کے اعتبار سے جانور اور بیکٹیریا میں کوئی فرق نہیں۔ زندہ رہنے کے لئے ہمیں خوراک کی ضرورت ہے اور فطرت نے زندہ اشیاء ہی کو ہماری خوراک بنایا ہے۔ غیر زندہ اشیاء (مردہ حیوان یا پتھر وغیرہ) کو ہم اپنی خوراک نہیں بنا سکتے۔ ایسی حالت میں اصل سوال قربانی کرنے یا نہ کرنے کا نہیں ہے۔ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آدمی زندہ رہے یا خودکشی کر کے اپنے آپ کو ختم کرلے۔ کسی کو یہ حق تو ہے کہ وہ کھانا پانی چھوڑ کر اپنے آپ کو ہلاک کرلے۔ مگر کسی کو یہ کہنے کا حق نہیں کہ قربانی نہ کرو۔ کیوں کہ قربانی تو ہر آدمی عملاً کر رہا ہے۔ ہر آدمی ہر لمحہ ہزاروں جانوں کو مار کر انہیں اپنی خوراک بناتا ہے اس کے بعد ہی وہ اس دنیا میں زندہ حالت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader