دیباچہ
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
نئے طریقوں کا اضافہ ہو گیا ہے۔ اس لئے موجودہ زمانہ میں دعوتی کام نے بھی، تدابیر اور ذرائع کے اعتبار سے، نئی وسعت اختیار کر لی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دعوت و تبلیغ کا جہاد آج اتنا وسیع الاطرف ہو چکا ہے کہ ’’پٹرول ڈلر‘‘ کی مہیب دولت بھی اس کا حقیقی بل ادا کرنے کے لئے ناکافی ہے۔ حیرت انگیز بات ہے کہ اس زمانی فرق کو دیگر مذاہب، مثال کے طور پر عیسائیت نے خوب سمجھا اور اس کو بھر پور طور پر اپنے دین کی تبلیغ و اشاعت کے لئے استعمال کیا۔ مگر مسلمان اس میدان میں اس قدر پیچھے ہیں کہ جدید امکانات کا انھیں شعور تک نہیں۔ حتیٰ کہ دعوتی کام ان کو اتنا معمولی نظر آتا ہے کہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے پھسپھسے کام کو جہاد کس طرح کہا جا سکتا ہے ! سوال آپ کی کتاب ’’فکر اسلامی‘‘ پڑھی۔ بظاہر اس کتاب سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ایک حریت پسند آدمی ہیں۔ کیا یہ لفظ آپ کے لئے بولنا درست ہوگا ؟ ( ابرار احمد رفعت، سورت ) جواب حریت پسند کا لفظ میرے لئے درست نہیں۔ اگر آپ میری تمام کتابیں پڑھیں تو آپ کی یہ غلط فہمی دور ہو جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ میرا پورا فکر قرآن و حدیث اور علماء حق کے مطالعہ سے ماخوذ ہے۔ میں مکمل طور پر ’’تقلیدی اسلام‘‘ کا حامی ہوں۔ فرق صرف یہ ہے کہ میں قدیم بات کو جدید اسلوب میں بیان کرتا ہوں۔ یہ وہی چیز ہے جس کو مرحوم قاری محمد طیب صاحب ان الفاظ میں بیان کیا کرتے تھے ...... مسائل قدیم ہوں، دلائل جدید ہوں۔ (ماہ جولائی 1991ء میں پٹنہ کے گورنمنٹ اردو لائبریری کے ہال میں ’’الرسالہ سمپوزیم‘‘ کا انعقاد ہوا تھا۔ جس میں مولانا نے تقریر کی تھی ۔ اس سمپوزیم میں کیا گیا ایک سوال بطور نقل نمونہ یہاں کیا جاتا ہے )

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader