دیباچہ
Urdu book, p. 97
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن میں مدینہ کے جن منافقین کے بارے میں ’کفر‘ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے وہ بڑی تعداد میں وہاں موجود تھے۔ مگر اس آیت کے نزول کے باوجود رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے افراد کا نام لے کر مشخص انداز میں کبھی ان کی تکفیر نہیں کی۔ اسی طرح حدیث میں ترک صلاۃ کے بارے میں ’’کفر‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ مگر اس سے مراد مشخص تکفیر نہیں۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہر زمانہ میں بہت سے مسلمان ایسے رہے ہیں اور آج بھی جو نماز کے تارک ہیں مگر علماءِ اسلام نے بھی شخصاً شخصاً نام لے کر ان کی تکفیر نہیں کی۔ سوال لکھنؤ سے ایک اردو ماہنامہ بانگ درا کے نام سے شائع ہوتا ہے۔ مولانا سلمان حسینی ندوی اس کے سرپرست ہیں۔ اس کیشمارہ مئی ۱۹۹۹ میں ’’جامعہ سید احمد شہید کے شب و روز‘‘ کے تحت ایک رپورٹ چھپی ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ ۳ مارچ ۱۹۹۹ کو شیخ دبیج ثمری (سکرٹری ایشین مسلمس) جامعہ میں آئے۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے ایک بلیغ خطبہ علم کی فضیلت اور علماء کی ذمہ داریوں سے متعلق دیا۔ اس میں انہوں نے کہا کہ آج ایسے ذی علم اسلامی داعیوں کی اشد ضرورت ہے جو اسلام کو صحیح شکل میں دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے اپنی زبان اور قلم کو بروئے کار لاسکیں اور باطل کے پروپیگنڈوں کا منہ توڑ جواب دے سکیں (صفحہ ۴۱) میرے علم کے مطابق آج کی مسلم دنیا میں آپ واحد نمایاں شخص ہیں جو علم و قلم کے ذریعہ اسلام کے دفاع کا یہ اہم کام کر رہے ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ بانگ درا کے شمارہ میں آپ کے خلاف پانچ صفحہ کا ایک مضمون شائع کیا گیا ہے جس کا عنوان یہ ہے ’’بھلی بات اور مولانا وحید الدین خاں‘‘۔ یہ پورا مضمون آپ کے خلاف ہے مگر میں سب وشتم اور الزام تراشی کے سوا اور کچھ نہیں۔ پورے مضمون میں کوئی ایک دلیل نہیں دی گئی ہے۔ مزید حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس مضمون میں آپ کے خلاف زہر افشانی کرتے ہوئے یہ بے بنیاد بات لکھی گئی ہے کہ مولانا (وحید الدین) مسلمانوں کے مسائل، ان کی نفسیات اور ان کی شکایات کو صرف اپنے ایرکنڈیشنڈ آفس میں اور ڈبل ڈور روم میں بیٹھ کر سمجھ لیتے ہیں (صفحہ ۴۳)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader