Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 98

By Maulana Wahiduddin Khan

میں بار بار دہلی میں آپ سے ملا ہوں اور دیر دیر تک آپ کے ساتھ آپ کے کمرے میں بیٹھا ہوں۔ میں ذاتی طور پر جانتا ہوں کہ آپ انتہائی سادہ زندگی گزارتے ہیں۔ آپ کے کمرے میں ائر کنڈیشنر تو درکنار کولر بھی موجود نہیں جو آج معمولی گھروں تک میں پایا جاتا ہے۔ میں حیران ہوں کہ آپ کے مخالفین آپ کے خلاف الزام تراشی کی زبان کیوں بولتے ہیں شاید اس لئے کہ انہیں یقین ہے کہ دلیل کے میدان میں ان کے پاس آپ کے لئے کچھ نہیں ہے۔ (ایک قاری الرساله لکھنؤ) جواب یہ باتیں جو مذکورہ جریدہ میں چھپی ہیں وہ کوئی نئی نہیں۔ اس قسم کی باتیں دوسرے اخبار و جرائد بھی چھاپتے رہے ہیں۔ عام طور پر میں ان بے بنیاد باتوں کے بارے میں خاموش رہتا ہوں۔ تاہم یہاں اصولی طور پر دو باتیں عرض کروں گا۔ ۱۔ میں خدا کے فضل سے پچھلے پچاس سال سے تحریر و تقریر کے میدان میں دینی خدمت انجام دیتا رہا ہوں۔ میرا میدان کار عین وہی ہے جس کی ضرورت مذکورہ عرب شیخ نے جامعہ سید احمد شہید کے پروگرام میں بیان کی۔ اب وہ لوگ ایک سنگین جرم کے مرتکب ہیں جو میرے کئے پر چپ رہیں اور میرے نہ کہنے کا خوب چرچا کریں۔ اس کے بجائے جس چیز کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں اس کو خود سے میرے اوپر چسپاں کر کے اس کی بنیاد ہر مجھے غلط طور پر مطعون کریں۔ اس قسم کی منفی روش ایک اعتبار سے ایک شخص کی ناحق کردار کشی ہے اور دوسرے اعتبار سے وہ صد عن سبیل اللہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ کیوں کہ اس مطلب یہ ہے کہ ایک شخص دعوت دین اور تعارف اسلام کی جو مہم چلا رہا ہے لوگ بے بنیاد طور پر بدظن ہو کر اس سے دور ہو جائیں۔ ۲۔ کچھ لوگ میرے بارے میں بار بار اس طرح کی باتیں چھاپتے رہے ہیں کہ ائر کنڈیشنڈ کمرہ یا شاندار کوٹھی میں رہتا ہوں۔ جو لوگ ایسی باتیں لکھتے ہیں وہ مجھے قابل رحم نظر آتے ہیں۔ وہ صرف زندگی کی سطحی باتوں کو جانتے ہیں۔ زندگی کی اعلیٰ حقیقتوں کی انہیں خبر نہیں۔ ان حضرات کو یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page