دیباچہ
Urdu book, p. 96
By Maulana Wahiduddin Khan
گناہوں کو ختم کر دیتا ہے (الاسلام يهدم ما كان قبله)۔ سوال میں ۱۹۹۱ء سے الرسالہ کا مستقل قاری ہوں۔ الرسالہ کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ انسان کو ایک مخصوص خول سے نکال کر ایک وسیع النظر انسان بناتا ہے۔ الرسالہ پڑھنے کی وجہ سے میں اب ہر مکتبِ فکر کو پڑھنے لگا ہوں۔ میرے اندر جو ذہنی بزدلی تھی وہ الرسالہ کے پڑھنے سے دور ہو گئی۔ ابھی کچھ دن ہوئے میں مرزائیت کے متعلق غلام احمد پرویز کی کتاب پڑھ رہا تھا تو ایک دوست نے کہا کہ غلام احمد پرویز کو تو علماء نے کافر بتایا ہے پھر تم کیوں اس کی کتاب پڑھتے ہو۔ اس معاملے کی وضاحت فرمائیں۔ (ایک قاری الرسالہ) جواب جہاں تک کتاب کا تعلق ہے، میرے نزدیک ہر کتاب کو پڑھنا چاہئے۔ البتہ آدمی کو چاہئے کہ وہ اپنی عقل کو اتنا بیدار رکھے کہ وہ صحیح اور غلط میں فرق کر سکے۔ تکفیر کا موجودہ طریقہ بعد کے زمانہ کی ایک ایجاد ہے۔ وہ اسلام کے مطابق نہیں۔ مصر کے ایک عالم خالد العنبری کی کتاب چھپی ہے جس کا نام یہ ہے: هزيمة الفكر التكפיری۔ اس کے مصنف نے موجودہ طرز تکفیر کو غیر صحیح بتایا ہے۔ اس کتاب کی رد میں سعودی عرب کے ایک عالم الشیخ صالح بن فوزان کا ایک مضمون ریاض کے عربی مجلہ الدعوة (۴ ربیع الاول ۱۴۲۱ھ۔ ۶ جولائی ۲۰۰۰) میں چھپا ہے۔ شیخ موصوف نے تکفیر کے طریقہ کو درست قرار دیا ہے ۔ اس سلسلہ میں انہوں نے قرآن وحدیث سے دو حوالے نقل کئی ہیں ۔ ایک منافقین مدینہ کے بارے میں قرآن کا ارشاد کہ: قد کفرتم بعد ایمانكم (التوبہ ۶۶) اسی طرح حدیث سے انہوں نے رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ: بین العبد وبين الكفر ترک الصلوة۔ شیخ مذکور کا یہ استدلال درست نہیں ۔ انہوں نے دو چیزوں میں فرق نہیں کیا۔ اصل یہ ہے کہ مذکورہ آیت یا حدیث عمومی اظہارِ ناراضگی کی مثال ہے نہ کہ شخصی تکفیر کی مثال ۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader