دیباچہ
Urdu book, p. 99
By Maulana Wahiduddin Khan
معلوم نہیں کہ میں ائر کنڈیشنڈ کمرہ یا ائر کنڈیشنڈ کار کو بالکل بے حقیقت سمجھتا ہوں۔ میرے جینے کی سطح اس سے بالکل مختلف ہے جس سے یہ صاحبان واقف ہیں۔ اللہ کے فضل سے میرا یہ حال ہے کہ مجھے سادگی میں لذت ملتی ہے۔ آسائش کے جدید سامانوں کی طرف مجھے کوئی رغبت نہیں۔ حتیٰ کہ لگژری میرے لئے عذاب کے ہم معنی ہے۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ اپنی طبیعت کے اعتبار سے اس قسم کی دنیوی آسائشوں سے میں آخری حد تک بیزار ہوں۔ مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ مئی۔ جون کے سورج کی گرمی میرے کمرے میں داخل ہو تو اس کے تجربہ سے مجھے ناز جہنم یاد آئے اور میں بہتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ پکار اٹھوں کہ اے میرے رب، مجھے جہنم کی شدید تر گرمی سے بچا۔ کولر اور اے سی کی مصنوعی ٹھنڈک سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔ اس کے مقابلہ میں مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میرے کمرہ کی کھلی کھڑکی سے ہوا کا جھونکا میرے کمرے میں داخل ہو جو مجھے مس ربانی کے تجربہ سے آشنا کرے میں اپنی تنہائیوں میں اکثر اس قول رسول کو دہراتا ہوں: اللهم لا عيش الا الآخرة۔ میرا عمل خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق کی اس نصیحت پر ہے جو انہوں نے ان الفاظ میں فرمائی تھی: اخشو شنوا۔ (لسان العرب ۱۳/ ۱۴۰) سوال سورہ الاعراف میں یہود کے بارے میں ارشاد ہوا ہے: واذ تادن ربک ليبعثن عليهم الى يوم القيامة من يومهم سوء العذاب ان عبک لسريع العقاب وانه لغفور رحیم (۱۶۷)۔ اس آیت کی تشریح کیا ہے۔ براہ کرم جواب تحریر فرمائیں۔ (سید حلیم ، ینبع ، سعودی عرب) جواب اس آیت کی مفصل تشریح تذکیر القرآن (جلد اول، ۴۱۸ - ۴۱۹) میں ملاحظہ فرمائیں۔ خلاصہ یہ کہ اس آیت سے مراد استمراری عذاب نہیں ہے۔ خود قرآن کے مطابق ، ان پر حسنات (الاعراف ۱۶۸) کے وقفے آتے رہیں گے اور یہود کی تاریخ اس کی تصدیق کرتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس آیت کا تعلق مسلمانوں سے ہے۔ وہ یہود کے لئے تہدید ہے اور مسلمانوں کے لئے تنبیہہ۔ اللہ کا یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader