Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 100

By Maulana Wahiduddin Khan

قانون صرف یہود کے لئے نہیں تھا۔ وہ بعد کے اس گروہ کے لئے بھی ہے جس کو یہود کی معزولی کے بعد خدا کی گواہی کے منصب پر فائز کیا گیا ہے۔ مسلمان اگر اپنے کو اس حال میں پائیں کہ وہ غیر مسلم قوموں کی چیرہ دستی کا شکار ہو رہے ہیں اور ان کی جمعیت چھوٹے چھوٹے جغرافیوں میں بٹ کر متفرق ہوگئی ہو تو ان کو خدا کی طرف لوٹنا چاہئے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ احتساب الہی کی اسی زد میں آگئے ہیں جس میں یہود آئے۔ سوال کہا جاتا ہے کہ شہد ایک پاک غذا ہے اور نہایت مفید ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ شہد تو ایک مکھی کا فضلہ ہے۔ دنیا میں لاکھوں قسم کے جانور ہیں مگر کسی بھی جانور کا فضلہ پاک نہیں۔ پھر شہد کی مکھی کا فضلہ کیونکر پاک ہوسکتا ہے۔ اس کی وضاحت فرمائیں (ایک قاری الرسالہ) جواب یہ صحیح ہے کہ عام مکھیوں کا یا کسی دوسرے جانور کا فضلہ پاک نہیں۔ مگر شہد کی مکھی جو شہد تیار کرتی ہے وہ اس کا فضلہ نہیں ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ شہد مکمل طور پر ایک پاک غذا ہے جو انتہائی پاک طریقہ سے مخصوص فطری نظام کے تحت تیار کی جاتی ہے۔ شہد کی مکھی ایک استثنائی مخلوق ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ پھولوں سے قدرتی مٹھاس حاصل کرتی ہے۔ اسکو لے جاکر وہ اپنے چھتہ کے اسٹور میں جمع کرتی ہے۔ یہ کام اول سے آخر تک نہایت پاکیزہ طریقہ پر ہوتا ہے۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ دنیا میں تقریباً ۲۰ ہزار قسم کی مکھیاں ہیں اور وہ کروڑوں قسم کے جانور ہیں۔ مگر شہد کی مکھی کے اندر انتہائی استثنائی صفت پائی جاتی ہے اور وہ یہ کہ اسکے جسم میں دہرا معدہ (double stomach) کا نظام قائم ہے۔ اسکی خوراک کیلئے ایک علیحدہ معدہ ہے جسکے اندر وہ اپنی خوراک داخل کرتی ہے اور اسکو ہضم کر کے اپنے جسم کی غذائی ضرورت پوری کرتی ہے۔ جہاں تک پھولوں سے حاصل کئے ہوئے رس کا تعلق ہے جسکو شہد کہا جاتا ہے اسکو وہ علیحدہ طور پر ایک خصوصی معدہ میں جمع کرتی ہے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page