دیباچہ
Urdu book, p. 102
By Maulana Wahiduddin Khan
جواب جادو کے بارے میں اس قسم کا خیال درست نہیں ۔ جادو گر جو کام کرتا ہے وہ نظر بندی ہے نہ کہ کسی چیز کو بدل کر اس کو کچھ سے کچھ کر دینا۔ اس سلسلہ کا ایک دلچسپ واقعہ وہ ہے جو آگرہ میں ۸ نومبر ۲۰۰۰ کو پیش آیا۔ یہ واقعہ اسی زمانہ کے اخباروں میں چھپا تھا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ آگرہ کے تاج محل کو دیکھنے کے لئے بہت لوگ اکٹھا تھے ۔ اس وقت کلکتہ کا مشہور جادوگر پی۔ سی سرکار (P.C. Sorcar) آیا۔ اس نے ۲ منٹ کے لئے تاج محل کو ”غیر موجود“ کر دیا۔ دیکھنے والوں نے اچانک دیکھا کہ تاج محل دن کی روشنی میں ان کی نظروں سے غائب ہو گیا ہے۔ دو منٹ کے بعد تاج محل دوبارہ اپنی جگہ پر کھڑا دکھائی دینے لگا۔ اس معاملہ کی وضاحت کرتے ہوئے خود مذکورہ جادوگر نے بتایا کہ میں نے تاج محل کو غیر موجود نہیں کیا تھا بلکہ صرف ایک ٹرک (trick) کے ذریعہ ایسی تدبیر کی تھی کہ تاج محل وقتی طور پر لوگوں کو دکھائی نہ دے ۔ اس نے کہا کہ اس قسم کے جادو کی حقیقت یہ ہے کہ وہ وقتی طور پر تصرف کر کے انسان کی آنکھ اور چیز (object) کے درمیان روشنی کا سلسلہ منقطع کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ چیز موجود ہوتے ہوئے بھی دیکھنے بھی دیکھنے والوں کو دکھائی نہیں دیتی یا کسی اور صورت میں دکھائی دیتی ہے۔ حیدر آباد کے انگریزی اخبار دکن ہیرالڈ (Deccan Herald) کے مطابق مذکورہ جادوگر نے اس معاملہ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: The Taj Mahal did not disappear, it was only out of sight. An object is said to have vanished when the light rays coming from that object cannot enter the eyes. If the rays coming from the object are bent, the image can be distorted or varished. (The Deccan Herald, Hyderabad, December 24, 2000) بنگال کے مذکورہ جادو گر مسٹر سرکار نے مزید کہا کہ سائیں بابا جیسے لوگ جو چمتکار دکھاتے ہیں وہ سب میں بھی دکھا سکتا ہوں۔ فرق یہ ہے کہ سائیں بابا جیسے لوگ اپنے آپ کو گاڈ (God) کہتے ہیں مگر میں اپنے آپ کو پر یٹینڈر (Pretender) کہتا ہوں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader