Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 103

By Maulana Wahiduddin Khan

سوال میرا کام ایسا ہے کہ مجھ کو زیادہ تر ہندوؤں کے درمیان رہنا پڑتا ہے، ہندو لوگوں سے اکثر باتیں ہوتی ہیں۔ میں نے پایا ہے کہ ہندوؤں کو مسلمانوں سے دوسری بڑی شکایتیں ہیں۔ ایک یہ کہ مسلم حکمرانوں، مثلاً اورنگ زیب نے ہندوؤں کے اوپر ظلم کیا، دوسری شکایت یہ ہے کہ مسلم لیڈروں نے ملک کا بٹوارہ کرایا، میں ان سے کہتا ہوں کہ یہ تو پہلے کی باتیں ہیں۔ آج کا ہندوستانی مسلمان تو ہندوؤں سے پوری طرح میل ملاپ کر کے رہنا چاہتا ہے مگر وہ لوگ میرے اس جواب پر مطمئن نہیں ہوتے، ایسی حالت میں رہنمائی فرمائیں کہ ہم کو کیا کرنا چاہئے۔ (ایک قاری الرسالہ) جواب اس مسئلہ کا حل یہ نہیں ہے کہ آپ یہ کہیں کہ ہم تو مسلمانوں کی نئی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ اورنگ زیب اور مسٹر جناح کے زمانے میں تو ہم پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ پھر ہمارے اوپر ان کے کئے کی ذمہ داری کیوں۔ حقیقت یہ ہے کہ قومیمل ایک مشترک عمل ہوتا ہے۔ قوم کے کچھ لوگ ایک عمل کریں اور قوم کے دوسرے افراد خاموش رہیں تو پوری قوم اس عمل میں شریک سمجھی جائے گی۔ اس سے مستثنیٰ صرف وہ افراد ہیں جو اعلان کے ساتھ اس عمل سے اپنے آپ کو ڈس اون (disown) کریں، یعنی اس سے اپنی بے تعلقی اور علیحدگی کا اعلان کر دیں۔ ہندوستانی مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان معتدل تعلقات صرف اسوقت قائم ہو سکتے ہیں جبکہ وہ اعلان کے ساتھ مغل حکمرانوں یا تقسیم ہند کے لیڈروں سے اپنے آپ کو ڈس اون (disown) کریں، یہ کہنا کافی نہیں کہ ہم تو اسوقت موجود ہی نہ تھے۔ قرآن میں رسول اللہ کے ہم عصر یہودیوں کو پچھلے نبیوں کے قتل کا مجرم ٹھہرایا گیا ہے (النساء ۱۵۵)۔ حالانکہ یہ لوگ یہودیوں کی بعد کی نسل سے تعلق رکھتے تھے مگر چونکہ وہ اپنے پچھلے اکابر کے فعل سے اپنے آپ کو ڈس اون (disown) نہیں کرتے تھے اس لئے بعد کے یہودیوں کو بھی پچھلے یہودیوں کے ساتھ بریکٹ کر دیا گیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page