دیباچہ
Urdu book, p. 104
By Maulana Wahiduddin Khan
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ موجودہ مسلمان اپنے سابق حکمرانوں یا اپنے سابق لیڈروں کو ڈس اون (disown) کیوں نہیں کرتے ۔ اس پر غور کیجئے تو ایک بے حد سنگین حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ مسلمان اسلام کی فکری عظمت پر کھڑے ہوئے نہیں ہیں۔ وہ بعد کو بننے والی مسلم تاریخ کی عظمت پر کھڑے ہوئے ہیں۔ وہ اللہ کی عظمت کے بجائے اپنے سیاسی اکابر کی عظمت میں جی رہے ہیں۔ ایسی حالت میں شعوری یا غیر شعوری طور پر ان کو محسوس ہوتا ہے کہ اگر انہوں نے اپنے سیاسی اکابر کو ڈس اون (disown) کیا تو وہ اچانک بے زمین ہو جائیں گے اس کے بعد عظمت کی کوئی اور زمین نہ ہوگی جس کے اندر وہ پر فخر طور پر کھڑے ہو سکیں۔ مزید یہ کہ اللہ کی دریافت آدمی کے اندر تواضع پیدا کرتی ہے، جب کہ پر عظمت تاریخ سے اس کو فخر کی غذا ملتی ہے۔ موجودہ مسلمان اپنی زوال یافتہ نفسیات کی بنا پر تواضع میں کوئی لذت نہیں پاتے، اس کے برعکس فخر اور ناز میں جینا ان کو بہت اچھا معلوم ہوتا ہے حالانکہ مومن وہ ہے جو تواضع کی نفسیات میں جئے، نہ کہ فخر و ناز کی نفسیات میں۔ سوال ماہنامہ الرسالہ کا شمارہ فروری ۲۰۰۱ دیکھا۔ میرے خیال سے یہ شمارہ ایک قسم کا نمبر ہے۔ میرے نزدیک اس کے مضامین کا خلاصہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے مختلف ملکوں میں جو سیاسی اور انقلابی تحریکیں اٹھائی گئیں ان کو آپ غیر اسلامی سمجھتے ہیں۔ مگر اس نقطۂ نظر کے حامیوں کا یہ کہنا ہے کہ یہ تحریکیں اسلام کے مطابق ہیں۔ کیوں کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: من رای منکم منکر أفلیغیر هبیده فان لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطو فبقلبه وذلک اضعف الایمان (مشکوۃ المصابیح ۳/۱۴۲۱) اس فرمان رسول کے مطابق تغیر منکر مسلمانوں کا لازمی فریضہ ہے۔ یہ تحریکیں اسی فریضہ کو ادا کرنے کی کوشش ہیں۔ تغیر منکر کے فریضہ ادا کرنے کی دوسری اور کوشش کیا ہو سکتی ہے (ایک قاری الرسالہ، حیدر آباد)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader