Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 105

By Maulana Wahiduddin Khan

جواب آپ نے مذکورہ تحریکوں کی حمایت میں جس دلیل کا ذکر کیا ہے وہ صرف ایک مغالطہ ہے ۔ وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ حضرات قرآن وحدیث کو اس طرح نہیں لیتے کہ خالی الذہن ہو کر اسلامی حکم کو معلوم کریں ۔ بلکہ ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں ۔ اس کو کسی نہ کسی طرح آیتوں اور حدیثوں کے حوالے سے صحیح ثابت کر سکیں ۔ اب مذکورہ حدیث رسول پر غور کیجئے ۔ حدیث کے اصل الفاظ کے مطابق، مسلمان کی ذمہ داری استطاعت کے بقدر ذاتی پیروی ہے، نہ کہ استطاعت کے دائرہ کو بڑھانے کے لئے دوسروں سے لڑائی چھیڑنا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بروقت جو استطاعت آپ کو حاصل ہے، اس استطاعت کے اعتبار سے آپ کو اپنی ممکن ذمہ داری ادا کرنا چاہئے ۔ اپنے ممکن دائرہ کو چھوڑ کر غیر ممکن دائرہ پر قابض ہونے کے لئے ہنگامہ آرائی کرنا اس حکم شریعت کی خلاف ورزی ہے نہ کہ اس کی پیروی۔ سوال پہلے میں ایک گروہ سے وابستہ ہوا اور ان لوگوں کے ساتھ رہ کر میں نے چند مصنفوں کی کتابیں پڑھیں مثلاً سید قطب، سید احمد شہید وغیرہ ۔ ان میں زیادہ تر جہاد بالسيف کا ذکر تھا۔ آخر کار میں بارہویں کا امتحان دئے بغیر مجاہدین کے ساتھ چل پڑا اور میں تقریبا چار سال ان سے وابستہ رہا۔ پھر میں نے گھر والوں کو بھی چھوڑ دیا۔ گھر والوں کو بہت تکلیف ہوئی ۔ ہمارے گھر کی مالی اور تعلیمی سرگرمیوں پر برا اثر پڑا۔ ۱۹۹۹ء میں میں گرفتار ہوا اور اللہ پاک کی مرضی سے میری جان بچ گئی ۔ اس کے بعد مجھے پولیس نے (public safety act ) P.S.A کے مطابق نظر بند رکھا۔ جیل خانے میں میری ملاقات ایک معروف شخصیت سے ہوئی اس نے مجھے ایک کتاب (اسلام ایک تعارف ) دی وہ آپ کی ہی لکھی ہوئی تھی ۔ پھر میں نے آپ کی پچاس ساٹھ کتابوں کا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد میرا ذہن بدل گیا ، میں نے پھر جیل میں examination form بھر دیا اور باقاعدہ طریقے سے میرا .T.D.C کا امتحان conduct ہوا ۔ اب میں دسمبر ۲۰۰۰ یعنی ۹ رمضان المبارک کو رہا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page