Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 106

By Maulana Wahiduddin Khan

(release) ہوا۔ اب میری خواہش ہے کہ اسلام پر زندگی کو چلاؤں اور پڑھائی بھی کروں لیکن گھر کے حالات کچھ اچھے نہیں ہیں اور اس وقت میری عمر ۲۱ سال کی ہے یہ میرے کمانے کا بھی ٹائم ہے۔ مولانا صاحب آپ سے گزارش ہے کہ آپ آگے میری رہنمائی فرمائیے۔ (ایک مسلم نوجوان، کشمیر) جواب یہ صرف ایک مسلم نوجوان کی کہانی نہیں ، بلکہ وہ موجودہ زمانہ کے لاکھوں مسلمانوں کی کہانی ہے۔ موجودہ زمانے میں جہاد کے نام پر مختلف ملکوں میں جو انتہا پسندانہ تحریکیں چلائی گئیں انہوں نے بے شمار مسلم خاندانوں کو تباہ کر دیا۔ اس کے نتیجہ میں نہ اسلام کو کچھ ملا اور نہ مسلمانوں کو۔ اس قسم کی تحریکیں بلاشبہ اسلامی تحریکیں نہیں اور نہ اس قسم کی عسکری سرگرمیاں اسلامی جہاد ہیں ۔ یہ سب ایک نادانی کا رد عمل تھا جو اسلام کے نام پر کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی تحریک کو اس کے نتیجہ کے لحاظ سے دیکھنا چاہئے۔ جو تحریک لوگوں میں نفرت اور تشدد کو بھڑکائے وہ کبھی اسلامی تحریک نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح جو عسکری سرگرمی لوگوں کی تباہی میں اضافہ کرے وہ کبھی اسلامی جہاد نہیں ہو سکتا۔ جو نا پختہ نوجوان اس قسم کی تحریکوں کا شکار ہوتے ہیں وہ شاید اپنی کم فہمی کی بنا پر قابل معافی قرار پائیں مگر جو لوگ ان تحریکوں کی لیڈری کرتے ہیں وہ بلا شبہ ایک سنگین جرم کر رہے ہیں جو کسی طرح قابل معافی نہیں ۔ سوال قرآن میں آیا ہے کہ اللہ تعالی نے حضرت آدم کو مٹی سے پیدا کیا اور پھر جنت میں داخل کیا۔ پھر جنت سے نکال دیا اور زمین پر چھوڑ دیا اور اسکے بعد دنیا بنی شروع ہوئی۔ چونکہ ساری کائنات کے لوگ اسی جوڑے (حضرت آدم اور حضرت حوا) کے بعد دنیا میں آئے اور پہلا جوڑا یہی تھا۔ میرا ذہن یہ سوال کرتا ہے کہ اگر ہم آج کی دنیا میں دیکھیں تو مجھے اپنی زبان (language) اپنے ماں باپ سے ہی ملی ہے تو کیا وجہ ہے کہ اگر ہم سب ایک ہی ماں باپ کی اولاد یعنی آدم کی اولاد ہیں تو ہماری زبان ایک کیوں نہیں ہے؟ ۔ یہ اتنی زبانیں کہاں سے پیدا ہوئیں؟۔ ساری دنیا میں ایک زبان ہونی چاہئے تھی جس کو سب سمجھ سکتے اور بول بھی سکتے ۔ یعنی حضرت آدم کی زبان ۔ (نذیر احمد صوفی، سری نگر)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page