Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

جواب یہ ایک کنفیوزن کی بات ہے نہ کہ حقیقی معنی میں کوئی سوال۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ ضروری سوال اور غیر ضروری سوال میں فرق کرے ورنہ وہ ساری عمر ذہنی الجھنوں میں مبتلا رہے گا اور اس کے اندر صحت مند فکر کا ارتقاء نہ ہو سکے گا۔ جہاں تک اصل سوال کا تعلق ہے اس کو عام تجربہ کے تحت سمجھا جا سکتا ہے۔ ایک خاندان میں چار لڑکے ہیں۔ تلاش معاش کے تحت وہ چار ملکوں میں چلے جاتے ہیں اور وہیں بس جاتے ہیں۔ اس کا فطری نتیجہ یہ ہوگا کہ چاروں کی زبانیں ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں گی۔ تقریباً اسی طرح کا کچھ معاملہ حضرت آدم کی اولاد کے ساتھ پیش آیا۔ مہاجرت کے ذریعہ لوگوں کی زبانیں بدلتی رہیں، یہاں تک کہ دھیرے دھیرے بہت سی زبانیں وجود میں آگئیں ۔ اس موضوع پر آپ کو وہ کتابیں پڑھنی چاہئیں جو زبانوں کی تاریخ پر لکھی گئی ہیں۔ سوال آپ الرسالہ میں جہاں قرآن وحدیث کا حوالہ عربی میں پیش کرتے ہیں تو اس کا ترجمہ بھی کر دیتے ہیں لیکن کبھی کبھی ایسا نہ ہونے کی وجہ سے عربی نہ جاننے والوں کو تشنگی رہ جاتی ہے۔ جیسے ماہ اکتوبر ۲۰۰۰ء کے رسالہ کے صفحہ ۲۶ میں سطر ۱۵-۱۶ دیکھیں۔ آپ سے گزارش ہے کہ براہ کرم جہاں بھی قرآن وحدیث کا حوالہ عربی میں دیں تو عربی کا ترجمہ اردو میں ضرور لکھیں ۔ (امان اللہ، سیوان) جواب یہ شکایت درست نہیں۔ اصل یہ ہے کہ الرسالہ محض عام قسم کا ایک ماہنامہ نہیں، وہ مکمل طور پر ایک مشن ہے اس کا مقصد پڑھنے والے کو صاحب مشن بنانا ہے نہ کہ اسکو وقتی قسم کی ایک ذہنی تفریح فراہم کرنا۔ آپ کو چاہیے کہ الرسالہ کو آپ اپنے لئے رابطہ کا ذریعہ بنائیں۔ الرسالہ کی باتوں پر لوگوں سے مذاکرہ کریں۔ الرسالہ کے پیغام کو دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کریں ۔ اسطرح یہ ہونا چاہیے کہ اگر قاری کو اسکا کوئی عربی لفظ یا جملہ سمجھ میں نہ آئے تو اسکو سمجھنے کیلئے وہ اپنے قریبی عالم سے رابطہ قائم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page