Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

میں باقی رہتا ہے۔ قربانی اس دنیا میں زندگی کا ایک عام قانون ہے ، وہ مخصوص طور پر جانور کے ذبیحہ سے متعلق مسئلہ نہیں۔ سوال کہا جاتا ہے کہ چیزوں سے نہیں ہوتا ، خدا سے ہوتا ہے۔ خدا سے ہونے کا یقین اور اسباب سے کچھ نہ ہونے کا یقین ۔ یہ کیا چیز ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے؟ اس کے بارے میں بتائیں۔ ( شکیل احمد ورورہ ، چندر پور ) جواب اس مسئلہ کا جواب حدیث (الترمذی، کتاب القیامہ) میں موجود ہے۔ رسول اللہ ﷺ سے ایک مسلمان نے کہا کہ اے خدا کے رسول میں اپنے اونٹ کو باندھوں اور پھر تو کل کروں یا اس کو چھوڑ دوں اور پھر تو کل کروں ۔ آپ نے فرمایا کہ تم اپنے اونٹ کو باندھو پھر تو کل کرو ۔ ( یا رسول الله اعقلها وا تو کل او اطلقها واتو کل قال اعقلها و توکل ) اصل یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر چیز برائے امتحان ہے یہی معاملہ تو کل کا ہے۔ اس دنیا کا نظام بظاہر اسباب وعلل پر قائم ہے ۔ یہاں کے حالات کا تقاضا ہے کہ آدمی پوری طرح اسباب کی رعایت کرتے ہوئے اپنا عمل کرے۔ اس کے باوجود اس کو خدا ہی پر بھروسہ کرنا ہے۔ پھر بھی اس کی کیفیت یہ ہونی چاہئے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ خدا کے حکم سے ہو رہا ہے۔ مومن وہ ہے جو ظاہری اعتبار سے ہر قسم کے اسباب فراہم کرے ، مگر داخلی طور پر اس کا یقین یہ ہو کہ جو کچھ ہو گا خدا کے حکم سے ہوگا۔ خدا کے حکم کے بغیر یہاں نہ کسی کو کچھ ملنے والا ہے اور نہ کسی سے کچھ چھینا جانے والا۔ سوال کہا جاتا ہے کہ زکاۃ اور صدقات میں برکت ہے اور سود میں برکت نہیں۔ اس کا مطلب کیا ہے ؟ ۔ براہ کرم تشریح فرمائیں۔ (مشتاق احمد دہلی)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page