Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 109

By Maulana Wahiduddin Khan

اس تحفہ کو خوشی کے ساتھ قبول کرے۔ وہ جینے کی طرح جئے اور جب اسکی موت آئے تو وہ اس احساس کے ساتھ مرے کہ اس نے زندگی کا فریضہ ادا کرنے میں اپنی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں کی۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ غیر مطلوب جوڑے کے ساتھ زندگی گزارنا یا غیر مطلوب افراد کے ساتھ کام کرنا کوئی برائی نہیں۔ اس کے اندر ایک بے حد مثبت پہلو چھپا ہوا ہے، وہ یہ کہ اسی کے دوران انسان کی ذہنی اور روحانی ترقی ہوتی ہے۔ ذہنی اور روحانی ترقی، اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ انسان ناموافق صورتحال پر راضی ہو جائے، وہ فرق اور اختلاف کے باوجود مل جل کر رہنے کا طریقہ سیکھ لے۔ اپنی پسند کی دنیا تلاش کرنے کا نام عقل مندی نہیں، عقل مندی یہ ہے کہ آدمی پسند کے خلاف جینے کا راز دریافت کرلے۔ سوال بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ آپ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو افضل الانبیاء نہیں تسلیم کرتے۔ اس کی کیا حقیقت ہے؟۔ براہ کرم واضح فرمائیں۔ (سید احسن الدین، مراد آباد) جواب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تمام انسانوں، بشمول انبیاء علیہم السلام پر، افضل و اعظم ہونا ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار سرے سے ممکن ہی نہیں۔ صاحب ایمان تو درکنار، غیر مسلم بھی اس کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر انگریز مورخ تھامس کارلائل (وفات ۱۸۸۱) نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو تمام پیغمبروں کا ہیرو بتایا ہے۔ اسی طرح امریکہ کے ایک اسکالر ڈاکٹر مائیکل ہارٹ نے آپ کو تمام انسانوں میں سب سے بڑا انسان قرار دیا ہے، وغیرہ۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا افضل ہونا، بجائے خود ایک مسلم واقعہ ہے۔ یہاں اصل سوال خود اس واقعہ کا نہیں بلکہ اس کی تعبیر کا ہے۔ یعنی اس حقیقت کی منصوص تعبیر کیا ہے اور اس کے اظہار کا منصوص طریقہ کیا ہے؟۔ مثال کے طور پر ایک تسلیم شدہ واقعہ ہے کہ ہر مومن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انتہائی گہرا قلبی تعلق ہونا چاہئے۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، اس قلبی کیفیت کی منصوص تعبیر محبت رسول ہے، عشق رسول اس کی منصوص تعبیر نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page