Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 110

By Maulana Wahiduddin Khan

تعبیر کا یہی فرق مذکورہ مسئلہ میں بھی پایا جاتا ہے۔ قرآن وحدیث کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ افضل الانبیاء‘ کی تعبیر قرآن یا حدیث میں اختیار نہیں کی گئی۔ مثلاً قرآن میں (محمد) رسول اللہ وخاتم النبین‘ تو ہے مگر قرآن میں کہیں بھی محمد افضل الانبیاء جیسی کوئی آیت نہیں۔ اسی طرح حدیث میں انا الماحی‘ تو ہے مگر حدیث میں کہیں بھی انا افضل الانبیاء جیسا کوئی کلمہ نہیں۔ تعبیر کا یہ فرق ایک بے حدا ہم حکمت پر مبنی ہے۔ یہ حکمت کیا ہے، وہ ایک حدیث سے واضح طور پر معلوم ہوتی ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ مدینہ کے ایک مسلمان اور مدینہ کے ایک یہودی کے درمیان تکرار ہوئی۔ یہودی نے قسم کھا کر کہا کہ اس خدا کی قسم جس نے موسیٰ کو تمام دنیا والوں پر فضیلت دی۔ یہ سن کر مسلمان نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور یہودی کے چہرہ پر طمانچہ مارا اور کہا کہ اے خبیث ، کیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اوپر بھی؟۔ اس کے بعد یہودی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور مسلمان کے خلاف شکایت کی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تفضلونی علی الانبیاء (تفسیر ابن کثیر ۳/ ۳۰) یعنی مجھ کو دوسرے نبیوں پر فضیلت نہ دو۔ اس مفہوم کی اور بھی کئی روایتیں ہیں۔ مثلاً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تفضلوا بین الانبیاء (صفحہ ۳۰۴) یعنی نبیوں کے درمیان ایک دوسرے کو افضل نہ بتاؤ۔ مذکورہ روایت بتاتی ہے کہ افضل الانبیاء کی تعبیر شریعت میں کیوں اختیار نہیں کی گئی۔ مسلمان اور یہودی کے مذکورہ واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ افضل الانبیاء کی تعبیر، بطور واقعہ درست ہونے کے باوجود لوگوں کے اندر فخر و ناز کی نفسیات پیدا کرتی ہے۔ ہر ایک اپنے فخر کو ثابت کرنا چاہتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غیر ضروری قسم کے نزاعات ابھرتے ہیں۔ ایک گروہ دوسرے گروہ پر اپنی برتری ثابت کرنے میں لگ جاتا ہے ، جب کہ زیادہ صحیح اور مفید بات یہ ہے کہ خدا کا اصل دین لوگوں کے درمیان زیر بحث آئے۔ داعی اور مدعو کے درمیان دعوت کے موضوع پر ڈائیلاگ نہ ہو کہ دونوں ایک دوسرے پر اپنی برتری ثابت کرنے میں مصروف ہو جائیں۔ اس معاملہ میں قرآن وحدیث سے جو منصوص تعبیر ملتی ہے اس کا فائدہ یہی ہے۔ مثلاً قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین (الاحزاب (۴۰) کہا گیا ہے۔ یہ تعبیر اہل ایمان کے اندر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page