Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 10

By Maulana Wahiduddin Khan

جواب یہاں برکت کا لفظ کسی پراسرار معنی میں نہیں ہے۔ بلکہ وہ معلوم اقتصادی معنی میں ہے۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ زکاۃ یا صدقہ دوسروں کو دینے کا عمل ہے۔ اس کے برعکس سود دوسروں سے لینے کا عمل۔ کسی سماج میں جب ایسا ہو کہ لوگ اپنی کمائی کا ایک حصہ دوسروں کو دینے لگیں تو وہاں عمومی خوش حالی پیدا ہوگی۔ کمایا ہوا مال صرف کمانے والے کے پاس نہیں رہے گا بلکہ توسیع پا کر وہ دوسروں تک بھی پہنچتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں سودی نظام میں یہ ہوگا کہ کچھ لوگ قرضوں کے ذریعہ دوسروں کے مال کا ایک حصہ اپنے لئے حاصل کرتے رہیں گے۔ سماج کی دولت پورے سماج میں گردش نہیں کرے گی بلکہ وہ کچھ افراد کے پاس سمٹ کر رہ جائے گی۔ یہی مطلب ہے بے برکتی کا۔ زکاۃ اور صدقہ کا طریقہ خوش حالی کو عمومی بناتا ہے اور سود کا طریقہ خوشحالی کو کچھ لوگوں تک محدود کر دیتا ہے۔ سوال آپ غیرمسلموں کے اجتماعات میں جاتے ہیں۔ دعوتی اعتبار سے ایک اچھی بات ہے۔ مگر جہاں تک معلوم ہوا ہے، آپ وہاں اسلامی عقائد کو پیش نہیں کرتے بلکہ اسلام کے اخلاقی تعلیمات اور معاملات کو پیش کرتے ہیں ۔ دعوت کا یہ طریقہ درست نہیں۔ آپ کو چاہئے کہ سنت نبوی کے مطابق اسلامی عقائد کو ان کے سامنے پیش کریں۔ (زکی نور عظیم ندوی، لکھنؤ) جواب آپ کی یہ اطلاع درست نہیں ، دعوت کوئی ایک ریکارڈ بجانے کا نام نہیں ہے۔ بلکہ مخاطب کی نفسیات اور موقع محل کی رعایت سے کوئی بات پیش کرنے کا نام ہے اور میں خدا کے فضل سے یہی کرتا ہوں ۔ مثلاً غیرمسلموں کے ایسے کئی اجتماعات ہیں جن میں میں نے ویدانت کی فلاسفی (ادویت واد) کے مقابلہ میں اسلام کے تصور توحید کو پیش کیا۔ بعض اجتماعات میں جہاں ایسے لوگ اکٹھا تھے جو اسلام کو تشدد پسند مذہب سمجھتے تھے، ان کے سامنے اسلام کورحمت کلچر کے طور پر پیش کیا۔ اسی طرح بعض اور اجتماعات میں جہاں ایسے مخاطبین تھے جو اسلام کی تاریخ کے بارے میں شک و شبہ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page