Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 125

By Maulana Wahiduddin Khan

صوفیاء کا جو کارنامہ ہے اس کو معاون دعوت کارنامہ کہا جاسکتا ہے نہ کہ براہ راست دعوت و تبلیغ کا کارنامہ۔ اصل یہ ہے کہ دور اول کے بعد اسلام عالمی طور پر ایک معروف دین بن گیا تھا۔ مزید یہ کہ اپنی فطری سادگی کی بنا پر اس کے اندر ہر انسان کے لئے کشش تھی۔ اس طرح اسلام کے اندر اپنے آپ لوگوں کے دلوں میں نفوذ کرنے کی طاقت پیدا ہوگئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسلام کی اشاعت ایک عمل (process) کے روپ میں خود اپنے زور پر مسلسل ہونے لگی۔ دور اول کے بعد کی تاریخ میں اسلام اسی طرح اپنے آپ پھیلتا رہا۔ صوفیاء کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے وہ منفی کام نہیں کیا جو موجودہ زمانہ کے نادان مسلم لیڈروں نے کیا۔ ان لیڈروں نے قومی تحریکیں چلا کر مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان مصنوعی طور پر تناؤ کا ماحول پیدا کر دیا اور اس طرح داعی اور مدعو کے درمیان نفرت پیدا کر کے اسلام کے اشاعتی عمل میں رکاوٹ ڈال دی۔ صوفیاء نے اپنے آپ کو اس قسم کے منفی عمل سے مکمل طور پر بچایا۔ انہوں نے اپنے مخصوص طریقہ کے ذریعہ مختلف فرقوں کے درمیان خوشگوار تعلقات کی فضا قائم کی۔ اس طرح معتدل اور خوشگوار تعلقات کے درمیان جب مسلمانوں اور غیر مسلموں کا اختلاط بڑھا تو اپنے آپ اسلام بھی تیزی کے ساتھ پھیلنے لگا۔ صوفیاء کی براہ راست تبلیغ کے بغیر لوگ جوق در جوق آ کر صوفیاء کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے لگے۔ مدنی دور میں صلح حدیبیہ کے بعد ہی یہ بات ثابت ہو چکی تھی کہ اسلام کی اشاعت کے لئے صرف اتنا کافی ہے کہ مسلمانوں اور غیر مسلموں یا داعی اور مدعو کے درمیان کشیدگی نہ ہو اور معتدل فضا میں اختلاط (interaction) ہونے لگے تو اسلام اپنے آپ پھیلنے لگے گا۔ صوفیاء نے شعوری یا غیر شعوری طور پر اسی امکان کو استعمال کیا جو بدقسمتی سے کوئی دوسرا مسلم گروہ استعمال نہ کر سکا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page