دیباچہ
Urdu book, p. 126
By Maulana Wahiduddin Khan
سوال اس وقت عالم اسلام جن مسائل سے دوچار ہے ان میں شاید سب سے زیادہ سنگین مسئلہ یہ ہے کہ مختلف مکاتب کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف زہر افشانی اور تکفیر تک کرتے رہتے ہیں جو اتحاد بین المسلمین میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ میں خود ایک گروہ سے وابستہ ہوں اور اس کی قدر کرتا ہوں مگر دوسرے کچھ گروہ اس کی تکفیر کرتے ہیں، اس معاملہ میں آپ اپنی رائے سے مطلع فرمائیں۔ (محمد جنید احمد حقانی، اسکاسٹ، کشمیر ) جواب موجودہ قسم کی تکفیر کا طریقہ جو کچھ مسلمانوں میں رائج ہے، وہ یقیناً غلط ہے۔ یہ ایک بدعت ہے۔ صحابۂ کرام کے دور میں اس قسم کی تکفیر کا رواج بالکل نہ تھا اور جس طریقہ کا رواج صحابہ کرام کے یہاں نہ پایا جائے وہ بلاشبہ قابل رد ہے۔ ایک دوسرے کو کافر قرار دینے کا طریقہ سلطنت عباسی کے دور میں شروع ہوا۔ یہ طریقہ چند سو سال تک جاری رہا۔ اس زمانہ میں لوگوں کو اس سے دلچسپی نہ رہی کہ وہ غیر مسلموں کو اسلام میں داخل کریں۔ اس کے بجائے وہ اس نامحمود عمل میں مشغول ہو گئے کہ وہ مسلمانوں کو اسلام سے خارج قرار دیں۔ تکفیر کا یہ طریقہ چند سو سال تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ علماء نے اس سلسلہ کو بند کرنے کے لئے متفقہ طور پر یہ اعلان کیا کہ ہم اہل قبلہ میں سے کسی کی تکفیر نہیں کریں گے۔ (لا نکفر احدا من اھل الق قبلة)۔ حقیقت یہ ہے کہ تکفیر و تفسق کے موجودہ ہنگامہ کا کوئی بھی شرعی جواز نہیں ۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ گویا ایک مذہبی گالی گلوج ہے نہ کہ کوئی مطلوب مذہبی عمل۔ سوال غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچانا مسلمانوں کی اولین ذمہ داری ہے۔ علماء کرام اور دانشوران اسلام اگر اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ اسلام کا پیغام غیر مسلم حضرات تک حکمت کے ساتھ پہنچائیں تو امید ہے کہ غیر مسلموں کی ایک کثیر تعداد اسلام کے بارے میں اپنے دل میں نرم گوشہ رکھے گی اور قرآن پاک جیسی کتاب کو جلانے کے بجائے اسے سینے سے لگائے گی اور اس کا مطالعہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader