دیباچہ
Urdu book, p. 127
By Maulana Wahiduddin Khan
کرے گی تو قبولیت اسلام کے لئے بھی تیار ہو جائے گی۔ مگر اس معاملہ میں اس قدر کوتاہی برتی جا رہی ہے کہ جیسے یہ کرنے کا کوئی کام ہی نہیں۔ اس سلسلہ میں کن لوگوں کو کن حکمتوں کے ساتھ یہ کام کرنا چاہیے؟ (شکیل احمد فارمیسٹ، بھنڈارہ) جواب موجودہ زمانہ کے مسلمان جو معمولی معمولی واقعات پر اشتعال ہو کر جلوس نکالتے ہیں اور جلاتے پھونکتے ہیں وہ ایک جرم ہے نہ کہ کوئی اسلامی خدمت۔ موجودہ مسلمانوں کی یہی منفی ذہنیت اسلام کی توسیع و اشاعت میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے حقیقت یہ ہے کہ دعوت کا آغاز انسانی خیر خواہی سے ہوتا ہے۔ جس طرح کوئی تاجر صرف اس وقت کامیاب تجارت کر سکتا ہے جب کہ وہ اپنے گاہکوں کا خیر خواہ ہو اور ان سے محبت اور رعایت کا تعلق قائم کرے۔ اسی طرح دعوتی عمل کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ داعی کے دل میں اپنے مدعو کے لئے خیر خواہی ہو۔ وہ سارے انسانوں سے محبت کرنے والا نہ کہ صرف اپنی قوم سے محبت کرنے والا ۔ یہ حقیقت ہے کہ دعوت کا کام احترام کے اصول پر قائم ہوتا ہے مگر بدقسمتی یہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان صرف احترام مسلم سے واقف ہیں، وہ احترام انسان سے واقف نہیں۔ یہی وہ اصل حکمت دعوت ہے جس کے زندہ ہونے پر دعوت کا عمل جاری ہو سکتا ہے۔ سوال چند روز قبل میں اپنے ایک دوست سے سیاسی اقتدار کی حقیقت کے بارے میں بات کر رہا تھا۔ گفتگو کے دوران میرے دوست نے کہا کہ موسیٰ کی دعوت پر فرعون نے کہا تھا کہ یہ (موسیٰ) ہمیں اپنے اقتدار سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں تو کیا فرعون کے اس قول سے سیاسی اقتدار کا نشانہ ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ فرعون جو موسیٰ علیہ السلام کا مخاطب تھا اس کے اس قول سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی تحریک سیاسی انقلاب کی تحریک تھی جس سے فرعون اپنے لئے سیاسی خطرہ محسوس کر رہا تھا۔ اس بنا پر اس نے ایسا کہا۔ (جاوید حسین وانی، اننت ناگ، کشمیر)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader