Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

تھے، وہاں اسلامی تاریخ کی صحیح تصویر پیش کی۔ بعض اور موقع پر جہاں محسوس ہوا کہ لوگ اسلام کے نام سے متوحش ہوتے ہیں وہاں یہ توحش دور کرنے کی کوشش کی تا کہ وہ اسلام کا مطالعہ کرنے لگیں۔ بعض مواقع پر جہاں لوگ مسلمانوں کے بعض اعمال کو دیکھ کر اسلام کے بارے میں بدگمان ہورہے تھے۔ وہاں بتایا کہ اسلام کو سمجھنے کا ماخذ قرآن وسنت ہے نہ کہ مسلمانوں کی روش۔ یہی طریقہ سنت نبوی سے ماخوذ ہے۔ اسی کو ایک صحابی نے ان الفاظ میں بیان فرمایا: كلم الناس على قدر عقولهم ۔ سوال میں نے آپ کی کتابیں پڑھی ہیں ۔ آپ کا ماہانہ رسالہ بھی دیکھتا ہوں ۔ ایک بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ آپ مسلم اکابر کو ہدف تنقید کیوں بناتے ہیں ؟ ۔ آپ اس کے بغیر بھی اپنی بات کہہ سکتے ہیں ۔ آپ جب مسلم اکابر کا نام لے کر ان کو ہدف تنقید بناتے ہیں تو اس سے قاری کے دل پر چوٹ لگتی ہے۔ اس قسم کی تنقید کا فائدہ سمجھ میں نہیں آتا۔ (محمد خالد ندوی) جواب آپ کی یہ شکایت دراصل ایک غلط فہمی پر مبنی ہے۔ آپ اس قسم کی تحریروں کی بابت یہ سمجھتے ہیں کہ ان میں کچھ شخصیتوں کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے۔ حالانکہ اصل بات یہ نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ میرا مقصد ۲۰ ویں صدی کے ایک انوکھے ظاہر و (Phenomenon) کی توجیہہ ہوتا ہے۔ اس ظاہر ہ کے ساتھ چونکہ بہت سی شخصیتوں کے نام وابستہ ہیں ۔ اس لئے ان کے نام حوالہ بھی ضمناً ان تحریروں میں آجاتا ہے ۔ وہ انوکھا ظاہر ہ یہ ہے کہ ۲۰ ویں صدی میں اسلام کے نام پر بہت بڑی بڑی کوششیں اور قربانیاں سامنے آئیں ۔ مگر ان کا کوئی مثبت نتیجہ نہیں نکلا۔ میں تاریخ اسلام کے اس انوکھے ظاہر ہ کی توجیہہ کرنا چاہتا ہوں ۔ اس میں ضمنی طور پر شخصیتوں کے نام بھی آجاتے ہیں ۔ اس کا مقصد کسی شخصیت کو الزام دینا نہیں ہوتا بلکہ ایک تاریخی ظاہر ہ کی توجیہہ تلاش کرنا ہوتا ہے۔ آپ جیسے لوگ اگر اس فرق کو سامنے رکھ کر مطالعہ کریں تو آپ کو میری ان تحریروں سے کوئی شکایت نہ ہوگی ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page