Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 128

By Maulana Wahiduddin Khan

جواب فرعون کا قول ”يريد ان يخرجكم من ارضكم ‘‘ الاعراف اور الشعراء میں آیا ہے۔ اس آیت سے یہ نظریہ نکالنا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مشن ایک سیاسی مشن تھا، بلاشبہ ایک مجرمانہ جسارت کی حیثیت رکھتا ہے۔ پہلی بات یہ کہ یہ فرعون کے قول سے موسیٰ علیہ السلام کا مشن نکالنا ہے۔ جب کہ حضرت موسیٰ کا پیغمبرانہ مشنقول موسیٰ سے نکلے گا ، نہ کہ قول فرعون سے۔ استدلال کا یہ طریقہ نہایت غیر منطقی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کشمیریوں کے ایک مخالف شخص کے قول سے کشمیریوں کا مقصد متعین کیا جائے۔ اپنے ذاتی معاملہ میں کوئی بھی اس قسم کے غیر منطقی استدلال کو تسلیم نہیں کرے گا۔ پھر قرآن کے معاملہ میں ایسا استدلال کیوں درست ہوسکتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ اگر حضرت موسیٰ کا مقصد یہ تھا کہ فرعون کو تخت سے بے دخل کرکے مصر میں اپنا سیاسی اقتدار قائم کریں تو حضرت موسیٰ نے نعوذ باللہ ، خود اپنے مشن کے خلاف عمل کیا۔ کیوں کہ جب فرعون اور اس کا لشکر مکمل طور پر تباہ ہو گیا تو اس کے بعد حضرت موسیٰ کے لئے بہترین موقع تھا کہ وہ اپنی قوم کے ساتھ واپس آ کر مصر کے اقتدار پر قبضہ کر لیں۔ مگر اس کے برعکس حضرت موسیٰ نے یہ کیا کہ وہ مصر کو چھوڑ کر اپنی قوم کے ساتھ صحرائے سینا کے غیر آباد علاقے میں چلے گئے۔ مذکورہ سیاسی تفسیر کو ماننے کی صورت میں حضرت موسیٰ کے اس عمل کی کوئی توجیہ نہیں کی جاسکتی۔ اس قسم کے واضح حقائق کے باوجود جو لوگ حضرت موسیٰ کے مشن کو سیاسی مشن بتائیں وہ صرف اس قابل ہیں کہ ان کے ساتھ قرآن کے اس حکم پر عمل کیا جائے: واعرض عن الجاهلين سوال میں دبئی میں رہتا ہوں ۔ وہاں میری ملاقات اکثر پاکستانی لوگوں سے ہوتی ہے۔ ان کو میں ماہنامہ الرسالہ اور الرسالہ کی دوسری مطبوعات پڑھنے کو دیتا ہوں ۔ یہ لوگ عام طور پر اس کو پسند کرتے ہیں مگر اکثر پاکستانی مسلمان ایک شبہ کا اظہار کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ اب تک ہم یہ جانتے تھے کہ اسلام کی خاص صفت یہ ہے کہ وہ ایک مکمل سیاسی نظام ہے اور ہماری ذمہ داری یہ ہے کہ ہم جہاد

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page