Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 129

By Maulana Wahiduddin Khan

کر کے اس سیاسی نظام کو قائم کریں۔ مگر الرسالہ اور الرساله مطبوعات میں ہم کو اسلام کا یہ تصویر نہیں ملتا آخر یہ فرق کیوں ہے؟ (ادریس محمد انصاری، دہلی) جواب یہ صرف پاکستانیوں کا مسئلہ نہیں۔ موجودہ زمانہ کے اکثر مسلمان اسی غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے ہیں کہ اسلام ایک سیاسی نظام ہے اور جہاد کا مقصد یہ ہے کہ لوگوں سے لڑ کر اس سیاسی نظام کو قائم کیا جائے۔ مگر یہ ایک سیاسی بدعت ہے جو موجودہ زمانہ کے نام نہاد انقلابی مفکرین نے پھیلائی ہے۔ انہوں نے اسلام کو گھٹا کر اس کو صرف ایک سیاسی نظام بنا دیا ہے۔ They have reduced Islam to a mere political system. اسلام کا یہ سیاسی تصور صرف ایک رد عمل ہے جو موجودہ حالات کے نتیجہ میں پیدا ہوا۔ وہ یقینی طور پر قرآن اور سنت سے ماخوذ نہیں۔ قرآن و سنت کے مطابق، اسلام ایک ربانی نظام کا نام ہے نہ کہ کسی سیاسی نظام کا نام (آل عمران ۷۹) اسلام کا مقصد ہر انسان کے دل میں اللہ کا خوف اور محبت پیدا کرنا ہے نہ کہ اسلامی سیاست کے قیام کے نام پر حکمرانوں سے لڑائی چھڑنا اور پورے سماج کو تشدد کا جنگل بنا دینا۔ جیسا کہ موجودہ زمانہ کے نام نہاد انقلابی مفکرین کے پیرو دنیا کے بہت سے ملکوں اور علاقوں میں انجام دے رہے ہیں۔ یہ نام نہاد اسلامی سیاست ہر جگہ عملاً وہی چیز بن گئی ہے جو قرآنی اصول کے مطابق، ایک فسادی سیاست ہے (البقرہ ۲۰۵)۔ اسلام کا آغاز اللہ کی ذاتی معرفت سے ہوتا ہے۔ اسلام ایک ایسے شعوری واقعہ کا نام ہے جب کہ ایک آدمی اللہ کو اس کی ذات اور صفات کے ساتھ دریافت کرے اور اپنے قلب اور دماغ کے ساتھ اس کی طرف پوری طرح متوجہ ہو جائے ۔ وہ اللہ کو اپنا سب کچھ بنالے۔ اسلام کی معرفت یا اسلام کی دریافت کے بعد آدمی کے اندر ایک زبردست تبدیلی آتی ہے۔ وہ اللہ کو یاد کرنے والا بن جاتا ہے۔ وہ اپنے نفع اور نقصان، اپنی نفرت اور محبت، غرض اپنے ہر قول اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page