دیباچہ
Urdu book, p. 130
By Maulana Wahiduddin Khan
فعل کو اللہ کیلئے خاص کر دیتا ہے۔ وہ غیر اللہ سے یکسو ہو کر صرف ایک اللہ کا عبادت گزار بن جاتا ہے۔ اسی طرح اس کا اجتماعی سلوک مکمل طور پر اللہ کے تابع ہو جاتا ہے۔ لوگوں کے ساتھ اس کا اخلاق، لوگوں کے ساتھ اس کے معاملات، لوگوں کے ساتھ اس کا لین دین، سب اللہ کے حکم کی روشنی میں انجام پانے لگتے ہیں۔ اس کے ہر قول اور اس کے فعل میں اللہ کا رنگ غالب آ جاتا ہے۔ ایسا آدمی اپنے خاندان کے اندر خاندان کا ایک اچھا ممبر بن جاتا ہے۔ سماج کے اندر وہ اس کے ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ ملک کے اندر وہ قانون کی پابندی کرنے والا اور اپنی ڈیوٹی انجام دینے والا ایک شہری بن جاتا ہے۔ زندگی کی جس سطح پر بھی دوسروں کے ساتھ اس کا تعلق قائم ہوتا ہے وہ لوگوں کے لئے ایک سچا انسان ثابت ہوتا ہے۔ یہی اصل اسلام ہے۔ جہاں تک حکومت اور اقتدار کا تعلق ہے، وہ قرآن کے مطابق، امر مقصود نہیں، بلکہ وہ امر موعود ہے۔ (النور ۵۵) اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی اقتدار کا حصول اسلامی تحریک کا نشانہ نہیں۔ اسلامی تحریک کا نشانہ اصلاً صرف دو چیزیں __ اللہ کے بندوں تک اللہ کا پیغام پہنچانا اور جو لوگ اللہ کے پیغام کو قبول کر لیں ان کی تعلیم و تربیت کرنا (لتنذر به وذكرى للمؤمنين) قرآن کے مطابق، سیاسی اقتدار امتحان کے پرچوں میں سے ایک پرچہ ہے۔ جس طرح مال کسی ایک ہی شخص یا ایک ہی گروہ کو نہیں دیا جاتا بلکہ ہر ایک کو دیا جاتا ہے تاکہ ہر ایک کی آزمائش ہو سکے۔ یہی معاملہ سیاسی اقتدار کا بھی ہے۔ سیاسی اقتدار بھی مختلف لوگوں کو باری باری دیا جاتا ہے۔ سیاسی اقتدار کسی فرد یا گروہ کی ابدی وراثت نہیں۔ کسی ایک کو مستقل طور پر سیاسی اقتدار کا مالک بنانا گویا دوسروں کو سیاسی آزمائش سے بری کرنا ہے۔ یہ اللہ کی سنت کے خلاف ہے۔ قرآن کے مطابق، فتح و شکست اور سیاسی غلبہ اور سیاسی مغلوبیت باری باری ایک کے حصہ میں آتی ہیں اور کبھی دوسرے کے حصہ میں (تلک الایام نداولها بين الناس) یہی وجہ ہے کہ قرآن میں اقتدار کے معاملہ کو (عربی شکل میں) أخرى (الصف ۱۳) کہا گیا ہے۔ یعنی اصل اُخروی مطلوب کے علاوہ ایک اور چیز جو دنیوی حالات کے لحاظ سے درکار ہوتی ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader