دیباچہ
Urdu book, p. 131
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسرے لفظوں میں یہ کہ سیاسی غلبہ یا سیاسی اقتدار کی حیثیت اسلام میں اضافی ہے نہ کہ حقیقی۔ سوال الرسالہ جون ٢٠٠١ کے شمارہ میں ایک چیز میرے ذہن کو بہت زیادہ کھٹک رہی ہے۔ صفحہ ۴۶ پر آپ نے لکھا ہے کہ’’گجرات میں غیر معمولی تباہی کا سبب یہ تھا کہ پچھلے برسوں میں وہاں کثرت سے ایسے مکانات بنائے گئے جن کو (non-engineered construction) کہا جاتا ہے۔ جب کہ موجودہ زمانہ میں ثابت شدہ طریقہ یہ ہے کہ جس مقام میں معلوم طور پر زلزلہ آنے کا امکان ہو وہاں quake resistant مکان بنائے جائیں۔ اس طرح گجرات کی آفت کے ذریعہ قدرت کی طرف سے گویا یہ پیغام دیا گیا ہے کہ لوگ اپنے مکانات فن تعمیر کے اصول کے مطابق بنائیں‘‘۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ خدا کے پاس’’کن فیکون‘‘کی ابدی طاقت ہے، اس کے نزدیک quake resistant اور non-engineered construction کا کوئی فرق نہیں، جو خدا اقوم عاد اور قوم ثمود کے محلات کو تاخت و تاراج کر سکتا ہے جو’’ارم ذات العماد لم يخلق مثلها فی البلاد‘‘تھے، اس ذات قہار کے نزدیک مذکورہ باتیں چہ معنی دارد است؟ (جمیل احمد عباس، چکنوٹہ، ویشالی، بہار) جواب الرسالہ میں جو بات لکھی گئی ہے وہ یہ نہیں ہے کہ خدائی عذاب کے مقابلہ میں کوئی چیز انسان کو بچا سکتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ وہ چیزیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں ایک ہے، نظام فطرت کے تحت پیش آنے والے عام مسائل اور دوسری چیز ہے اللہ کے فیصلہ کے تحت پیش آنے والا غیر معمولی واقعہ جس کو عذاب کہا جاتا ہے۔ الرسالہ کے مذکورہ شمارہ میں جو بات کہی گئی ہے وہ اول الذکر صورت حال سے متعلق ہے، نہ کہ ثانی الذکر صورت حال سے متعلق۔ برسات کی بارش سے بچنے کے لئے آپ چھت بناتے ہیں اور وہ چھت آپ کو بارش کے مسائل سے محفوظ رکھتی ہے۔ مگر قوم عاد پر عذاب کی جو بارش برسائی گئی کوئی بھی چھت انسان کو اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader