دیباچہ
Urdu book, p. 132
By Maulana Wahiduddin Khan
سے محفوظ نہیں رکھی سکتی تھی۔ اسی طرح مخصوص حکمت کے تحت اللہ نے زمین کے اندر نہایت گرم لاوا رکھا ہے۔ اس کی مسلسل حرکت سے زمین پر ہر روز زلزلے آتے ہیں۔ عام حالات میں یہ زلزلے اتنے خفیف ہوتے ہیں کہ صرف آلات کی مدد سے ان کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ مگر کبھی کبھی ان میں تیزی آ جاتی ہے اور زمین کے اوپر کا حصہ ہلنے لگتا ہے اس وقت ہم اس کو زلزلہ کہتے ہیں۔ جسطرح دوسرے فطری مسائل کے مقابلہ میں ہم بچاؤ کا انتظام کرتے ہیں۔ مثلاً بارش سے مقابلہ کیلئے چھت، سیلاب سے مقابلہ کیلئے بند، گرمی سے مقابلہ کیلئے سایہ، سردموسم سے مقابلہ کیلئے گرم کپڑا، وغیرہ۔ اسی طرح زلزلہ سے مقابلہ کیلئے بھی مطالعہ اور تجربہ کے بعد مخصوص تکنیک دریافت کی گئی ہے اور اسکے استعمال سے مختلف ملکوں میں بچاؤ کا سامان کیا گیا ہے۔ مگر عذاب کا معاملہ اس قسم کے فطری مسائل سے نوعی طور پر مختلف ہے۔ عذاب ایک فیصلہ الہی ہوتا جو بہر حال واقع ہو کر رہتا ہے۔ مگر ہم کو یہ حق نہیں کہ ذاتی قیاس کے تحت ہم کسی واقعہ کو عذاب الہی کہیں ۔ اس قسم کا اعلان صرف پیغمبر براہ راست خدائی اطلاع کی بنا پر کر سکتا تھا۔ پیغمبر کے بعد اب کسی واقعہ کو خدا کا عذاب کہنا ایک ایسی جسارت ہے جس کا تحمل اللہ سے ڈرنے والا کوئی انسان نہیں کر سکتا۔ سوال خدا کی حقیقت (وجود) سب سے افضل مانی جاتی ہے۔ لیکن شیطان برائی کرنے کے لئے انسان کو اکساتا ہے اور کامیاب ہو جاتا ہے۔ مگر خدا بے بس لگتا ہے۔ شیطان کیسے خدا کے برابر طاقتور ہے؟ (بلراج اوبرائے، ریٹائرڈ جج، میرٹھ) جواب خدا انسان کا خالق ہے۔ خدا بلا شبہ تمام طاقتوں کا مالک ہے۔ شیطان کو دنیا میں بظاہر انسان کے اوپر جو اختیار حاصل ہے اسکا تعلق خدا کی طاقت سے نہیں ہے بلکہ خدا کے تخلیقی نقشہ (creation) (plan) سے ہے۔ شیطان کو موجود دنیا میں جو اختیار حاصل ہے وہ اسلئے ہے کہ خدا نے اپنی امتحانی مصلحت کی بنا پر وقتی طور پر اس کو یہ موقع دیا ہے۔ شیطان کا اختیار اس کی ذاتی صفت نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader