Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 133

By Maulana Wahiduddin Khan

اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا کو خدا نے آزمایش (test) کی مصلحت کے تحت بنایا ہے یہاں انسان کو اس لئے بسایا گیا ہے کہ اس کو جانچ کر دیکھا جائے اور یہ فیصلہ کیا جائے کہ کون انسان اپنے حسن عمل کی بنا پر اس قابل ہے کہ اس کو جنت کی ابدی دنیا میں بسایا جائے اور جو لوگ اپنی بدعملی کی بنا پر نالائق ثابت ہوں ان کو جنت سے محروم کر کے کائنات کے ابدی کوڑا خانہ میں ڈال دیا جائے۔ موجودہ دنیا کا پورا نظام اسی آزمایش مصلحت کے تحت بنایا گیا ہے۔ موجودہ دنیا کی صحیح توجیہہ صرف اس وقت ممکن ہے جب کہ اس کو اسی روشنی میں دیکھا جائے اور اس کے واقعات کی توجیہہ اسی بنیادی اصول کی روشنی میں کی جائے۔ مثلاً انسان کو موجودہ دنیا میں جو اختیار ملا ہوا ہے وہ بھی اسی آزمایش مصلحت کی بنا پر ہے۔ انسان کے اندر صحیح اور غلط کی تمیز کی جو صلاحیت ہے اس کا راز بھی یہی ہے۔ انہی میں سے ایک شیطان کا وجود بھی ہے۔ اسلامی عقیدہ کے مطابق، شیطان خفیہ نوعیت کی ایک مستقل مخلوق ہے۔ شیطان یہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ انسان کو بہکائے۔ وہ انسان کو اس طرح متاثر کرے کہ برائی اس کو خوبصورت دکھائی دے اور بھلائی اس کو بُری صورت میں نظر آئے۔ مگر شیطان کو انسان کے اوپر صرف بہکانے کا اختیار حاصل ہے۔ شیطان کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ انسان کے ساتھ زبردستی کرے یا اس کو غلط راستہ پر چلنے کے لئے مجبور کر سکے۔ موجودہ دنیا میں انسان کا معاملہ ویسا ہی ہے جیسے امتحان ہال میں کسی طالب علم کا معاملہ۔ طالب علم کو امتحان ہال میں مکمل آزادی حاصل ہوتی ہے۔ وہ اپنی کاپی پر جو چاہے لکھے اور جو چاہے نہ لکھے۔ مگر یہ آزادی صرف تین گھنٹہ کے لئے ہے۔ تین گھنٹہ کا وقت پورا ہوتے ہی اس کی کاپی واپس لے لی جاتی ہے۔ اس کے بعد اس کے تعلیمی مستقبل کا فیصلہ اس کی اسی کارگزاری پر کیا جاتا ہے جو اس نے تین گھنٹے کے ملے ہوئے وقت میں انجام دی تھی۔ ایسا ہی کچھ معاملہ انسان کا موجودہ دنیا میں ہے۔ کسی انسان کو عمر کا جو وقفہ ملا ہے وہ گویا اس کے لئے تین گھنٹہ کا وقفہ ہے۔ اس وقفہ عمل کے دوران اس کو موقع ہے کہ وہ یا تو شیطان کے بہکاوے میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page