Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 134

By Maulana Wahiduddin Khan

آکر اپنا اعمال نامہ خراب کرلے یا اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے اپنے آپ کو شیطان کے بہکاوے سے بچائے۔ وہ شیطان کو رد کر کے فرشتے کی آواز کو سنے اور سچائی کے راستہ پر قائم ہو جائے۔ جو لوگ فرشتے کی آواز کو سنیں اور اس کی پیروی کریں ان کے لئے خدا کا ابدی انعام ہے اور جو لوگ شیطان کی آواز کو سنیں اور اس کی پیروی کریں ان کے لئے خدا کی ابدی سزا۔ شیطان کے بارے میں مذکورہ سوال صرف اس وقت پیدا ہوتا ہے جب کہ موجودہ دنیا ہی کو واحد دنیا سمجھا جائے۔ مگر جب دنیا کے ساتھ آخرت کی دنیا کو ملا لیا جائے تو یہ سوال اپنے آپ حل ہو جاتا ہے۔ موجودہ دنیا کو آخرت کی دنیا سے ملا کر دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا عمل کرنے کی جگہ ہے اور آخرت کی دنیا اس کا بدلہ پانے کی جگہ۔ آخرت کی دنیا میں جو اعلیٰ انعام دیا جانے والا ہے وہ بے حد قیمتی ہے۔ اس قیمتی انعام کے مستحق صرف وہ بلند حوصلہ افراد ہوں گے جو شیطان کی ترغیبات (temptations) سے اپنے آپ کو بچائیں اور ہر ممکن قربانی دیتے ہوئے سچائی کے راستہ پر قائم رہیں۔ جن کی موت اس حال میں آئے کہ انہوں نے شیطان کے اوپر مکمل غلبہ پالیا تھا۔ سوال میں الرسالہ کا قاری ہوں۔ الرسالہ، مارچ ۱۹۹۵ میں ایک مضمون چھپا تھا جس میں یہ درج تھا کہ ’’بندہ نے رمضان میں ایک مہینہ تک اللہ کے حکم کی تعمیل کی، تو اب اللہ نے اس کو قبول کرتے ہوئے اپنے انعام کے طور پر بندہ کو یہ موقع دیا کہ وہ پابندیوں سے آزاد ہو کر جو چاہے کھائے اور جو چاہے پئے‘‘ (صفحہ ۱۸)۔ اس عبادت پر کچھ لوگوں نے اعتراض کیا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حرام و حلال کی تمیز کئے بغیر جو چاہے کھاؤ جو چاہے پیو۔ میری سمجھ سے اس عبارت کو اس طرح ہونا چاہئے تھا: ’’پابندیوں سے آزاد ہو کر اللہ کے دیئے ہوئے مال حلال سے جو چاہے کھائے اور جو چاہے پئے‘‘۔ اگر عبارت اس طرح ہوتی تو لوگوں کو اعتراض نہ ملتا۔ (سید آصف علی، پوسٹ بکس ۲۴۸۰، شارجہ)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page