Urdu book · سوال و جواب

دیباچہ

Urdu book, p. 135

By Maulana Wahiduddin Khan

جواب یہ معاملہ عبارت میں غلطی کا نہیں ہے بلکہ یہ ان لوگوں کی سوچ کی غلطی کا معاملہ ہے جن لوگوں نے یہ اعتراض کیا۔ اگر کھلے ذہن کے ساتھ اس مضمون کو پڑھا جائے تو معلوم ہوگا کہ خود اسی مضمون میں مذکورہ اعتراض کا جواب موجود ہے۔ آپ دوبارہ پورے مضمون کو پڑھیں تو آپ پائیں گے کہ اس میں چند سطر پہلے یہ الفاظ چھپے ہوئے موجود ہیں ’’رمضان کا مہینہ کھانے پینے پر پابندی لگانے کا مہینہ ہے اور عید الفطر کا دن ان پابندیوں سے آزاد ہونے کا دن ہے‘‘ ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’پابندیوں سے آزادی‘‘ سے مراد وہ پابندیاں ہیں جو روزہ کے دنوں میں عائد کی گئی تھیں، نہ کہ مطلق آزادی۔ یہ اعتراض نہیں ہے بلکہ شوشہ ہے اور شوشہ ہر عبارت میں نکالا جا سکتا ہے حتیٰ کہ قرآن میں بھی جیسا کہ ارشاد ہوا ہے: واذا علم من آیاتا تنا شیئاً اتخذها هزواً (الجاشیہ ۹) سوال میری ملاقات ایک جماعت کے لوگوں سے اکثر ہوتی رہتی ہے۔ وہ آپ پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ آپ دعوت کی بات کرتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ آپ نے کتنے لوگوں کو مشرف بہ اسلام کیا ہے۔ الرسالہ کے خبر نامہ اسلامی مرکز میں تو ایسی خبریں موجود نہیں ہوتیں ۔ (اقبال احمد فیضی، بھلائی) جواب سوال کرنے والے کے اندر اگر سنجیدگی ہو تو وہ اس سوال کا جواب خود ہی معلوم کر سکتا ہے۔ ہمارا مشن تقریباً چالیس سال سے چل رہا ہے۔ اس مدت میں اللہ کے فضل سے ہم نے مختلف ملکوں کے لاکھوں انسانوں تک اسلام کا پیغام پہنچایا ہے۔ ان میں سے ہزاروں لوگ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں، فالحمد للہ علی ذلک۔ مگر میں اور میرے ساتھی یہ کام صرف اللہ کی رضا کے لئے کر رہے ہیں اس لئے ہم اس کو خبر نامہ میں نہیں چھاپتے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page